سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے کے معاملے پر سماعت شروع ہوئی
نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے نو ججوں کی آئینی بنچ نے منگل کو سبریمالا مندر میں مذہبی عقیدہ بمقابلہ بنیادی حقوق اور خواتین کے داخلے کے معاملے کی سماعت شروع کی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی آئینی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران مرکزی حکومت
SC-Hearing-Sabarimala-Issue


نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ سپریم کورٹ کے نو ججوں کی آئینی بنچ نے منگل کو سبریمالا مندر میں مذہبی عقیدہ بمقابلہ بنیادی حقوق اور خواتین کے داخلے کے معاملے کی سماعت شروع کی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی آئینی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا کہ سبریمالا مندر میں حیضکی عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی مذہبی عقیدے اور خود مختاری کا معاملہ ہے۔

مرکزی حکومت نے عدالت سے پابندی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے معاملوں میں عدالتی نظرثانی کا دائرہ محدود ہونا چاہیے۔ آج کی سماعت کے دوران، مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ خواتین کو نہ صرف برابری دی ہے، بلکہ کئی بار انہیں بلند مقام بھی دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ حالیہ فیصلوں میں پدرانہ نظام اور صنفی دقیانوسی تصورات جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، لیکن یہ تصورات ہندوستانی تہذیب کی بنیاد میں نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خیالات باہر سے آئے ہیں اور ہندوستان کی ثقافتی روایات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

مہتا نے کہا کہ ہندوستان شاید دنیا کا واحد معاشرہ ہے جہاں خواتین کو دیوی کے طور پر پوجا جاتا ہے۔ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے لے کر سپریم کورٹ کے ججوں تک، سبھی خواتین دیوتاو¿ں کے سامنے جھکتے ہیں۔ اس سے خواتین کا احترام ظاہر ہوتا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ میں جسٹس بی وی ناگارتنا، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس احسان الدین امان اللہ، جسٹس اروند کمار، جسٹس اے جے مسیح، جسٹس پی بی ورلے، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جوائے مالیہ باغچی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ نو ججوں کی آئینی بنچ 22 اپریل تک سماعت مکمل کرلے گی۔ سماعت کے لیے ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ درخواست گزار 7 سے 9 اپریل تک اپنے دلائل پیش کریں گے۔ فریقین 14 سے 16 اپریل تک اپنے دلائل دیں گے۔ درخواست گزار 21 تاریخ کو دوبارہ اپنے دلائل پیش کریںگے۔ اس کے بعد امیکس کیوری 22 اپریل کو اپنے دلائل پیش کریں گے۔

واضح ہو کہ 28 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے 4-1 کی اکثریت سے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے کہا تھاکہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کافی عرصے سے جاری ہے۔ عورتیں مردوں سے کم نہیں ہیں۔ ایک طرف ہم خواتین کو دیوی کی طرح سمجھتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ حیاتیاتی اور جسمانی وجوہات کی بنا پر خواتین کے مذہبی عقیدے کی آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا سمیت چار ججوں نے کہا تھاکہ اس سے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

جسٹس اندو ملہوترا نے باقی چار ججوں سے الگ فیصلہ سنایا تھا۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو مذہبی عقائد کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہپوجا (عبادات)میں عدالت کی مداخلت مناسب نہیں۔پوجا کا طریقہ مندر کو خود طے کرنا چاہیے۔ مندر کی اتھارٹی کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مساوات کے حق کی بنیاد پر مذہبی رسومات کا مکمل جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ کسی کے مذہب کا طریقہ کار طے کرنا عدالت کا نہیں، عبادت گزاروں پر منحصر ہے۔ جسٹس ملہوترا نے کہا تھاکہ اس فیصلے سے دیگر مندروں پر بھی اثر پڑے گا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande