
شملہ، 7 اپریل (ہ س)۔ شملہ کے رام بازار میں واقع تاریخی رام مندر احاطے میں 11 اپریل کو ہونے والی ایک مخصوص برادری کی شادی کی تقریب (نکاح) کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ نکاح کی تقریب کے لیے مندر کے ہال کو بک کیے جانے کے اعلان کے بعد کچھ ہندو تنظیموں نے اعتراض ظاہر کیا ہے اور احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ اس معاملے نے شہر میں چرچا کا ماحول بنا دیا ہے۔
ہندو سنگھرش سمیتی کے کنوینر وجے شرما کا کہنا ہے کہ مندر احاطے کی جائیداد پر ایسے واقعات مذہبی روایات کے مطابق نہیں ہیں۔ کمیٹی نے مندر کا انتظام دیکھنے والی سود سبھا کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے، جس میں مجوزہ تقریب کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر تقریب منعقد ہوئی تو وہ سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔ کمیٹی کے بعض عہدیداروں نے علامتی احتجاج کرنے کی بات بھی کی ہے۔
تنازعہ کے درمیان، مندر کے احاطے کا انتظام کرنے والی سود سبھا نے صورتحال کو سنجیدگی سے لیا ہے اور منگل کو ہنگامی میٹنگ کا اعلان کیا ہے۔ سبھا کے صدر راجیو سود نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ تمام جماعتوں اور برادریوں کے جذبات پر غور کرنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سود سبھا نے ہمیشہ سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور اسی جذبے سے فیصلے کئے جائیں گے۔
راجیو سود نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مندر کے ہال میں اس برادری کے لیے شادی کی تقریب منعقد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اسی ہال میں اس طرح کی 15 سے زائد شادی کی تقریبات منعقد کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مندر کے احاطے میں گوشت، مچھلی اور الکحل کے استعمال پر پابندیاں پہلے سے ہی عائد ہیں اور مذہبی اقدار کا سختی سے خیال رکھا جاتا ہے۔
رام بازار میں واقع رام مندر شملہ کے قدیم ترین اور نمایاں مذہبی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ مندر کی کثیر منزلہ عمارت شہر کی سماجی اور مذہبی زندگی کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ اس کی اوپری منزل پر بھگوان رام، لکشمن، سیتا، ہنومان اور دیگر دیوتاو¿ں کی مورتیاں رکھی گئی ہیں، جب کہ نچلی منزل کے ہال طویل عرصے سے شادیوں اور سماجی تقریبات کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ رام بازار کا علاقہ شہر کے مرکز میں واقع اپنے مندر کے لیے جانا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد