مدھیہ پردیش کی سابق وزیراعلیٰ اوما بھارتی نے ٹیکم گڑھ میں اپنے بنگلے کے سامنے دکان لگا کر پوہا-جلیبی فروخت کی
ٹیکم گڑھ، 07 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی کی فائر برانڈ لیڈر اوما بھارتی منگل کو ٹیکم گڑھ ضلع ہیڈ کوارٹر پر پوہا-جلیبی فروخت کرتی نظر آئیں۔ انہوں نے ٹیکم گڑھ میں ایک دن پہلے ہٹائے گئے چھوٹے دکانداروں کو واپس بلا کر اپنے
اوما بھارتی ٹیکم گڑھ میں ہاتھ ٹھیلے پر دکان لگا کر پوہا جلیبی فروخت کرتی ہوئیں۔


اوما بھارتی ٹیکم گڑھ میں ہاتھ ٹھیلے پر دکان لگا کر پوہا جلیبی فروخت کرتی ہوئیں۔


ٹیکم گڑھ، 07 اپریل (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کی سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی کی فائر برانڈ لیڈر اوما بھارتی منگل کو ٹیکم گڑھ ضلع ہیڈ کوارٹر پر پوہا-جلیبی فروخت کرتی نظر آئیں۔ انہوں نے ٹیکم گڑھ میں ایک دن پہلے ہٹائے گئے چھوٹے دکانداروں کو واپس بلا کر اپنے بنگلے کے باہر سڑک کنارے ہاتھ ٹھیلے پردکان لگائی اور پوہا-جلیبی فروخت کی۔

ٹیکم گڑھ نگرپالیکا کی ٹیم نے پیر کوسول لائن روڈ پرتجاوزات ہٹاو مہم چلائی تھی۔ اس دوران جے سی بی سے کئی چھوٹی دکانیں اور ہاتھ ٹھیلے ہٹا دیے گئے تھے۔ اوما بھارتی نے اس کارروائی کی مخالفت کی تھی اور چھوٹے دکانداروں کو ہٹانے کو غلط قرار دیا تھا۔ اسی سلسلے میں منگل کی صبح وہ سول لائن روڈ پر واقع بنگلے سے نکل کر ہاتھ ٹھیلے پر پہنچیں۔ یہاں خود پوہا-جلیبی فروخت کر کے دکانداروں کی حمایت کی۔ انہوں نے ہاتھ ٹھیلے والوں سے دوبارہ سڑک کنارے ٹھیلے لگانے کو کہا۔

اوما بھارتی نے منگل کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ ٹیکم گڑھ نگر پالیکا اور اسمبلی بی جے پی کے پاس نہیں ہے، ورنہ یہ ناانصافی پر مبنی کارروائی کل نہ ہوتی؟ کل جہاں سے غریبوں کے ٹھیلے یا تو توڑ دیے گئے یا ہٹا دیے گئے، ان کے آس پاس چاروں طرف وسائل اور سہولیات سے مالا مال لوگوں کے گھر اور ریسٹورنٹ تجاوزات کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری انتظامیہ کو اس کی حیثیت بتاتے ہوئے ابھی بھی چیلنجنگ پوزیشن میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اصلاح معاشرے کے بااثر شخص پر سب سے پہلے اور غریب شخص پر سب سے آخر میں نافذ ہو، یہی ہماری بی جے پی کا مثالی نظریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیر کو اچانک ٹیکم گڑھ شہر میں شام کو غریب لوگوں کی دکانیں جے سی بی کے ذریعے شہری انتظامیہ نے توڑنی شروع کیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی میں فوراً اس مقام پر پہنچی، تب تک دکانیں ٹوٹ چکی تھیں۔ دکانیں یعنی چھوٹے چھوٹے ٹھیلے، جو جے سی بی کے ذریعے توڑ دیے گئے اور غریب لوگوں کا سامان تہس-نہس کر دیا گیا۔ ہمارے بی جے پی ٹیکم گڑھ کے نگر پالیکا کونسلر گروپ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جیسا فیصلہ ہوا تھا، یہ اس کے برعکس ہوا ہے۔ جو طے ہوا تھا کہ پہلے شہر میں دو تین جگہوں کی نشاندہی کریں گے، وہاں پر تھوڑی بہت سہولیات کی تعمیر کریں گے، پھر ان تمام دکانداروں کو وارننگ دی جائے گی اور پھر ان کو شفٹ کر دیا جائے گا، اس کی جگہ بغیر وارننگ کے غریب لوگوں کا ذریعہ معاش تباہ کر دیا گیا۔ میں نے انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ اس شرمناک، غیر انسانی کارروائی کو فوراً روک کر جو کونسلر گروپ کی میٹنگ میں طے ہوا تھا، اس پر عمل کریں۔ میں نے اس کی اطلاع ہمارے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال اور ریاست کے وزیراعلیٰ موہن یادو کو بھیج دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکم گڑھ شہری انتظامیہ نے غریب لوگوں کی جو چھوٹی چھوٹی دکانیں توڑے جانے کی کارروائی کی، میں نے خود سڑکوں پر جا کر ان غریب لوگوں سے ملاقات کی۔ میں نے دکانداروں سے عہد لیا ہے کہ وہ گندگی نہیں ہونے دیں گے اور انتظامیہ بھی کوشش کرے گی کہ ان کو اور بہتر جگہ پر شفٹ کیا جا سکے۔ تاہم پھر بھی یہ راستہ ضلع سرکاری اسپتال، پولیس اور انتظامیہ کے دفاتر کی طرف جاتا ہے، ایسے میں غریب لوگوں کو پیدل آتے جاتے ان سہولیات کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت جلد ہمارا کونسلر گروپ اور مقامی انتظامیہ اس معاملے کو حل کر لیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande