دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کو ریگولرائز کرنے اور دہلی میں ٹی او ڈی پالیسی کے نفاذ کا اعلان
نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ شہری ترقی کو تیز کرنے اور شہریوں کو بہتر بنیادی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے، حکومت نے ”ایز اِز، وہیراِز“(جیسا ہے جہاں ہے) کی
DELHI-COLONIES-TOD-POLICY


نئی دہلی، 7 اپریل (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے دہلی میں غیر مجاز کالونیوں کے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ شہری ترقی کو تیز کرنے اور شہریوں کو بہتر بنیادی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے، حکومت نے ”ایز اِز، وہیراِز“(جیسا ہے جہاں ہے) کی بنیاد پرکالونیوں کو ریگولرائز کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک اورینٹڈ ڈیولپمنٹ (ٹی او ڈی ) پلان کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی ہاو¿سنگ اور شہری امور کے وزیر منوہر لال کھٹر نے منگل کو یہاں منعقد ایک خصوصی تقریب میں ان اسکیموں کی تفصیلات بتائیں۔ اس تقریب میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، دہلی کے میئر راجہ اقبال سنگھ، چیف سکریٹری راجیو ورما، ہاو¿سنگ اور شہری ترقی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈی تھارا، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین این سرونا کمار اور ایم سی ڈی کمشنر سنجیو کھیروار موجود تھے۔

مرکزی وزیر منوہر لال نے کہا کہ غیر مجاز کالونیوں کو اب لے آو¿ٹ پلان کی منظوری کے بغیر قانونی حیثیت دی جائے گی اور ملکیت کے عمل کو آسان بنایا جائے گا۔ دہلی میں کل 22 طرح کے بڑے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سب سے بڑا چیلنج مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا فقدان ہے۔ دہلی حکومت، ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی، این ڈی ایم سی، ایل این ڈی او اور دہلی جل بورڈ کے درمیان اختیارات کا ٹکراو(اوورلیپنگ اتھارٹیز)ہونے سے عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب تمام ایجنسیوں کوایک ساتھ آن بورڈ لا کر حل تلاش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دہلی حکومت، ڈی ڈی اے اور ایل این ڈی او کے سرکل ریٹ الگ الگ تھے۔ اس سال یکم جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے، دہلی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ سرکل ریٹ اب ڈی ڈی اے اور ایل این ڈی او دونوں کے لیےنافذ کر دیے گئے ہیں۔ اس سے کنورژن ریٹ،رجسٹریشن فیس اور لیز ہولڈ پراپرٹیز سے متعلق مسائل حل ہورہے ہیں۔کنورژن کے عمل کو جلد ہی کابینہ میں حتمی شکل دے کر عمل میں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی او ڈی پالیسی کا پہلے اعلان کیا گیا تھا اور 2021 کے ماسٹر پلان میں اس کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس میں کچھ رکاوٹیں تھیں۔ اب پالیسی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ریگولرائزیشن کے لیے 2019 میںپی ایم -اُدے اسکیم کے تحت مالکانہ حقوق دینے کا انتظام کیا گیا تھا، لیکن کام آگے بڑھنے میں ناکام رہا۔ اب، اسے ریگولرائزیشن کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے۔ آج سے، ریگولرائزیشن کے تمام قوانین نافذ کرکے لوگ اپنے مالکانہ حقوق کا اندراج کر سکیں گے۔ نئے مکانات کی تعمیر کے لیے ایم سی ڈی کے ذریعے پلان تیار کر کے دیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ 2019 کی پی ایم-ادے اسکیم کے تحت اب تک تقریباً 40,000 جائیداد کی منتقلی کے عمل(کنوینس ڈیڈ) اور اجازت کی سلپس (آتھرائزیشن سلپ) جاری کی گئی ہیں، لیکن تکنیکی رخنہ اندازیوں کی وجہ سے یہ عمل سست تھا۔ یہ مسائل اب مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں۔ نئی اسکیم سے تقریباً 50 لاکھ افراد اور 10 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ دہلی میں کل 1,731 غیر مجاز کالونیاں ہیں جن میں سے 1,511 کو اس اسکیم کے تحت ریگولرائزکیا جا رہا ہے۔ ریزرو ایریا، اوزون ، فارسٹ ایریا اور محفوظ یادگاروں کے آس پاس واقع کالونیوں کو اس اسکیم سے باہر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے بندوبست کے تحت لے آو¿ٹ پلان کی منظوری کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تمام پلاٹوں اور عمارتوں کو جیساہے، اسی شکل میں تسلیم کیا جائے گا۔ منظوری کے عمل کو آسان بناتے ہوئے، نوڈل افسر اب دہلی حکومت کے محکمہ ریونیو کے اے ڈی ایم ہوں گے۔ سروے کا کام پٹواری اور نائب تحصیلدار مشترکہ طور پر کریں گے۔ عمل کو طے مدت میں مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے سخت ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ جی آئی ایس سروے رپورٹ 7 دنوں کے اندر جاری کی جائے گی، 15 دن کے اندر درخواست کی کمی کی اصلاح کا میمو اور 45 دنوں کے اندر مکمل درخواست کے لیے کنوینس ڈیڈ جاری کی جائے گی۔ درخواستیں 24 اپریل 2026 سے سوگم پورٹل کے ذریعے آن لائن کھلیں گی۔

ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین این سرونا کمار نے وضاحت کی کہ پہلے، ٹی او ڈی زون کے لیے کم از کم 8 ہیکٹیئر اراضی اور 1 ہیکٹیئر کے پلاٹ سائز کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے نجی شعبے زیادہ آگے نہیں آ پا رہے تھے۔ اب پلاٹ کا کم از کم سائز صرف 2,000 مربع میٹر مقرر کیا گیا ہے۔ میٹرو لائن کے دونوں طرف 500 میٹر کے علاقے کو ٹی او ڈی زون تصور کیا جائے گا، جبکہ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کے ارد گرد 500 میٹر کے دائرے کو ٹی او ڈی زون کے طور پر نامزد کیا جائے گا۔ یہ پالیسی موجودہ اور مجوزہ میٹرو اور ریل نیٹ ورکس پر بھی لاگو ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں زمین کے استعمال کی پابندیوں (لینڈ یوز ریسٹریکشن) کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے، لیکن کل ایف اے آر (فلور ایریا ریشیو) کا 65 فیصد کفایتی رہائش (100مربع میٹر تک کے فلیٹس)کے لئے لازمی قرار دیتی ہے۔ اس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے افراد کے لیے مزید رہائش ممکن ہو سکے گی۔ پروجیکٹ کی منظوری کے لیے سنگل ونڈو سسٹم قائم کیا گیا ہے۔ ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین کی سربراہی میں ٹی او ڈی کمیٹی تمام ایجنسیوں کے نمائندوں کے ساتھ کام کرے گی اور 60 دنوں کے اندر عمارت کے منصوبوں کی منظوری دے گی۔ٹی او ڈی چارجز کو بھی آسان کر دیا گیا ہے۔ اب 10,000 فی مربع میٹر چارج کیا جائے گا اور یہ رقم صرف پروجیکٹ کے بنیادی ڈھانچے (سڑکوں، سیوریج، اور نکاسی) کو بہتر بنانے پر خرچ کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے رنگ فینسڈ ایسکرو اکاونٹ بنایا گیا ہے۔ کچھ فنڈز ایم سی ڈی کو، کچھ ڈی ڈی اے کو اور باقی اسی علاقے میں خرچ ہوں گے۔

ایڈیشنل سکریٹری ڈی تھارا نے وضاحت کی کہ جب کہ 2019 کے پلان میں مالکانہ حقوق دیے گئے تھے،لیکن بلڈنگ ریگولرائزیشن کے لیے ایک لے آو¿ٹ پلان کی ضرورت پڑتی تھی، جو پیش رفت میں رکاوٹ تھی۔ یہ رکاوٹ اب مکمل طور پر ہٹا دی گئی ہے۔ کوئی بھی شخص پی ایم -ادے پورٹل پر ملکیتی حقوق کے لیے درخواست دے سکتا ہے اور پھر عمارت کا نقشہ ایم سی ڈی کے سواگم پورٹل پر اپ لوڈ کرکے ریگولرائزیشن حاصل کرسکتا ہے۔ تقریباً 700 نامزد آرکیٹیکٹس نقشے تیار کریں گے۔

تھارا نے بتایا کہ 1,731 کالونیوں میں سے 220 اوزون، جنگلات یا رج کے علاقوں میں ہیں، جنہیں خارج کر دیا گیا ہے۔ ڈی ڈی اے نے باقی 1,511 کالونیوں کی حدود کا تعین کیا ہے۔ ریگولرائزیشن صرف رہائشی استعمال کے لیے ہو گی۔ چھ میٹر سڑکوں والے علاقوں میں عمارتوں کو آسانی سے ریگولرائز کیا جائے گا۔ چار میٹر سڑکوں والے علاقوں میں دوبارہ تعمیر کے دوران ایک میٹر جگہ چھوڑ کر سڑکوں کو چوڑا کیا جائے گا۔ چھوٹے تجارتی اداروں کو بھی محدود علاقوں میںریگولرائز بنایا جائے گا۔ ایم سی ڈی ماہانہ ڈرون سروے کرے گا اور نئی غیر مجاز تعمیراتی سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کرے گا۔ حکومت انفراسٹرکچر کی ترقی کی ذمہ دار ہوگی۔ وہ لوگ جنہوں نے پہلے ہی ملکیت کے حقوق حاصل کر لیے ہیں وہ 24 اپریل سے سواگم پورٹل پر براہ راست درخواست دے سکتے ہیں۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande