بہار کے موتیہاری میں گزشتہ چھ دنوں میں زہریلی شراب سے 11 لوگوں کی موت
پٹنہ، 7 اپریل (ہ س)۔ بہار کے موتیہاری ضلع میں زہریلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد بدستور جاری ہے۔ گزشتہ چھ دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ پیر کی دیر رات رگھوناتھ پور تھانہ علاقہ کے بال گنگا وارڈ نمبر 29 کے رہنے والے جتیندر شاہ کی موت کے
بہار کے موتیہاری میں گزشتہ چھ دنوں میں زہریلی شراب سے 11 لوگوں کی موت


پٹنہ، 7 اپریل (ہ س)۔ بہار کے موتیہاری ضلع میں زہریلی شراب سے مرنے والوں کی تعداد بدستور جاری ہے۔ گزشتہ چھ دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ پیر کی دیر رات رگھوناتھ پور تھانہ علاقہ کے بال گنگا وارڈ نمبر 29 کے رہنے والے جتیندر شاہ کی موت کے بعد یہ تعداد مزید بڑھ گئی۔

جتیندر شاہ کی موت نے ان کے خاندان کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ وہ اپنے خاندان کا واحد کمانے والا تھا، اور اس کی موت سے اس کی پانچ بیٹیاں بغیر باپ کے رہ گئی ہیں۔

متوفی کی بیٹی رانی کماری نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ یکم اپریل کی رات اس کے پڑوسی سنجیت شاہ نے اس کے والد کو شراب پلائی جس سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ انہوں نے اسے باہمی دشمنی کا معاملہ قرار دیا۔

ان کی اہلیہ للیتا دیوی کی حات ناقابل دید ہے۔ وہ بار بار پوچھتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کیسے کرے گی، کیونکہ اس کی پانچ بیٹیاں ہیں اور جیتندر واحد کمانے والا تھا۔

زہریلی شراب کے اس سانحے میں اموات کا سلسلہ 2 اپریل سے شروع ہوا تھا۔4 اپریل تک چندو کمار، پرمود کمار، پرکاشن مانجھی، ہیرالال بھگت، لال کشور رائے، سمپت شاہ، اور لڈو شاہ کی موت ہو چکی تھی۔ اس کے بعد 5 اپریل کو محمد الیاس انصاری، لڈو شاہ (بال گنگا) اور جودھا مانجھی کی موت ہوگئی۔ 6 اپریل کی رات جیتندر شاہ کی موت کے ساتھ ہی مرنے والوں کی کل تعداد 11 ہوگئی۔

انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ تقریباً 15 افراد اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔ ان میں سے چھ افراد آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئےہیں جس سے اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔

مشرقی چمپارن کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سورن پربھات نے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک سات لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک چوکیدار بھی شامل ہے۔ پیر کے روز دو ملزمین نے عدالت میں خود سپردگی کر دی ۔ ان پر زہریلی شراب فروخت کرنے کا الزام ہے۔ پولیس تمام ملزمین سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور عدالت کی ہدایت کے مطابق مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande