این سی ای آر ٹی کتاب تنازعہ کیس میں بلیک لسٹیڈ ماہرین تعلیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا
نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س)۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی کلاس 8 کی نصابی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی پر ایک باب لکھنے پر سپریم کورٹ کی طرف سے بلیک لسٹ کیے گئے تین ماہرین تعلیم نے اپنے خلاف کیے گئے تبصروں کو ہٹانے کا
این سی ای آر ٹی کتاب تنازعہ کیس میں بلیک لسٹیڈ ماہرین تعلیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا


نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س)۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی کلاس 8 کی نصابی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی پر ایک باب لکھنے پر سپریم کورٹ کی طرف سے بلیک لسٹ کیے گئے تین ماہرین تعلیم نے اپنے خلاف کیے گئے تبصروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تینوں درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں ان کے خلاف کیے گئے تبصروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تینوں عرضی گزاروں کے وکلاءنے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے سماعت کی درخواست کی۔ عدالت نے کہا کہ کوتاہیوں کو دور کرنے کے بعد درخواست درج کی جائے گی۔ 8 مارچ کو عدالت نے ذمہ داروں کو سرکاری فرائض سے ہٹانے کا حکم بھی دیا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم پروفیسرز مائیکل ڈینو، دیواکر اور آلوک پرسنا کمار کے خلاف جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ ان افراد کے پاس یا تو عدلیہ کے بارے میں کافی معلومات نہیں ہیں یا جان بوجھ کر غلط بیانی کی گئی۔ ان کا مقصد آٹھویں جماعت کے طلباءمیں عدلیہ کی منفی تصویر پیش کرنا تھا۔ آٹھویں جماعت سیکھنے کی چھوٹی عمر ہے۔عدالت نے این سی ای آر ٹی اور مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کتاب کی تمام کاپیاں تمام جگہوں سے ہٹا دی جائیں تاکہ اسے عوام تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ کتاب کو آن لائن یا جسمانی طور پر شیئر کرنا توہین عدالت تصور کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande