کھانا پکانے کی گیس ملک میں یومیہ مزدوری کرنے والوں کی دسترس سے باہر ہے: راہل گاندھی
نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س)۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان ملک میں ایل پی جی کی موجودہ قلت کو لے کر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کھانا پکانے کی گیس ی
کھانا پکانے کی گیس ملک میں یومیہ مزدوری کرنے والوں کی دسترس سے باہر ہے: راہل گاندھی


نئی دہلی، 6 اپریل (ہ س)۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے درمیان ملک میں ایل پی جی کی موجودہ قلت کو لے کر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کھانا پکانے کی گیس یومیہ اجرت پر مزدوری کرنے والوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔

پیر کے روز، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راہل گاندھی نے حکومت پر ایل پی جی کے بحران کا موازنہ کووڈ-19 وبائی مرض ے کرتے ہوئے کہا کہ

اس دوران بھی حکومت کی تساہلی سامنے آئی تھی، بڑے بڑے اعلانات کئے گئے تھے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوااور آج سارا بوجھ غریبوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ 500 سے 800 روپے یومیہ اجرت حاصل کرنے والے یومیہ مزدوروں کے لیے اب کھانا پکانے کی گیس ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔ رات کو گھر لوٹنے والے مزدور کے پاس چولہا جلانے کے لیے درکار رقم بھی نہیں ہوتی۔ نتیجتاً مزدور شہروں کو چھوڑ کر اپنے گاؤں کو لوٹنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ملوں اور کارخانوں کی ریڑھ کی ہڈی بننے والے مزدور آج تباہی کے دہانے پر ہیں۔ ٹیکسٹائل کی صنعت پہلے ہی ایک گہرے بحران کی لپیٹ میں ہے، اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کی حالت ناگفتہ بیہہ ہے۔ یہ بحران کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کی بنیادی وجہ ایک سفارتی غلطی ہے جسے حکومت آج تک تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ قائد حزب اختلاف نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ہر بحران میں غریب ہی سب سے پہلے مارا جاتا ہے؟ یہ صرف غریبوں کا سوال نہیں ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک سوال ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande