
۔پون کھیڑا نے جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگائے، ایف آئی آر درج: وزیر اعلیٰ
گوہاٹی، 6 اپریل (ہ س)۔ آسام میں سیاسی جنگ آج اس وقت تیز ہوگئی جب وزیر اعلی ڈاکٹر ہمانتا بسوا سرما نے کانگریس لیڈروں پر من گھڑت دستاویزات کا استعمال کرنے اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی، اس تنازعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا۔
پیر کو آسام پردیش کانگریس کے ہیڈکوارٹر، اٹل بہاری واجپئی بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر سرما نے دعویٰ کیا کہ پون کھیڑا اور گورو گوگوئی نے دو مربوط پریس کانفرنسیں کیں، ایک دہلی میں اور دوسری گوہاٹی میں، جو ان کے مطابق ”فرضی مواد“ پر مبنی تھیں۔ ان کے مطابق، اس طرح کے دستاویزات کو عوامی طور پر پیش کرنے پر دھوکہ دہی اور جعل سازی سے متعلق قوانین کے تحت سنگین تعزیرات کی دفعات نافذ ہوتی ہیں ، جس میں بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس)کی متعلقہ دفعات بھی شامل ہیں۔
معلوم ہوہے کہ پون کھیڑا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کے نام پر تین الگ الگ ممالک کے پاسپورٹ ہونے ، امریکہ میں ہزاروں کروڑ روپے کی کمپنی ہونے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر دکھائی تھیں۔ اس سے ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ جیسے ہی یہ اطلاع سامنے آئی، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر سرما نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ لکھی اور اسے جھوٹا قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں پون کھیڑا کے خلاف فوجداری اور دیوانی، دونوں طرح کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے آج کہا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس کیس بھی درج کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مجھے آج اس بات کا افسوس ہو رہا ہے کہ ترون گوگوئی کے بیٹے گورو گوگوئی اقتدار کے لیے اتنے نیچے گر گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ تب اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب گورو گوگوئی نے پاکستان کی حمایت سے ایسے جھوٹے الزامات کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پون کھیڑا نے جو جرم کیا ہے ، انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کھیڑاکو اپنی زندگی آسام کی جیل میں گزارنی پڑے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام پوسٹ اصل میں پاکستان سے جاری کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر سرما نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاملہ اب صرف سیاسی نہیں رہ گیاہے، بلکہ اس کے قانونی نتائج بھی ہو سکتے ہیں، جو ثابت ہونے پرکافی بڑھ سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اہلیہ رینیکی بھویاں سرما نے ان الزامات کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پولیس ان دعووں اور دستاویزات کی اصلیت کی مکمل تحقیقات کرے گی۔
ایک اور سنگین الزام لگاتے ہوئے ڈاکٹر سرما نے کہا کہ کھیڑا کی پریس کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے مواد کا ماخذ پاکستانی سوشل میڈیا ایکو سسٹم سے منسلک تھا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس دنوں میں، پاکستانی چینلز نے آسام کے انتخابات پر غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں بحثیں نشر کی ہیں، جو ان کے بقول پہلے کبھی نہیں ہوئی اور الزام لگایا کہ ان مباحثوں میں مسلسل کانگریس کے حق میں بیانیہ پیش کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پریس کانفرنس کے پیچھے ”پاکستان کنکشن“ اب مزید واضح ہو گیا ہے۔
اپنے الزامات کو آگے بڑھاتے ہوئے، ڈاکٹر سرما نے کہا کہ آسام بی جے پی نے ”گورو الیزابتھ786“ کے نام سے ایک فرضی ادارہ بنایا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ جعلی کمپنیاں یا ڈیجیٹل ریکارڈ کتنی آسانی سے آن لائن بنائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس طرح کا تجربہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ گمراہ کن معلومات بنانے کے لیے اسی طرح کے طریقوں کا استعمال کس طرح سے کیا جاسکتا ہے جو گوگل جیسے عوامی پلیٹ فارم پر تیزی سے ظاہر ہوسکتا ہے ۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد