
امریکہ کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا یا گیا
واشنگٹن، 03 اپریل (ہ س)۔ امریکہ کے سکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران سے چھڑی جنگ کے درمیان ملک کے آرمی چیف (آرمی چیف آف اسٹاف) جنرل رینڈی جارج سے عہدہ چھوڑنے اور فوری ریٹائرمنٹ لینے کو کہا ہے۔ پینٹاگون کے مرکزی ترجمان شان پارنیل نے کہا، ”جارج آرمی کے 41 ویں چیف آف اسٹاف کے عہدے سے فوری اثر سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ محکمہ جنگ جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات کے لیے ان کا مشکور ہے۔ ہم انہیں روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔“
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آرمی چیف کے ساتھ آرمی کے دو دیگر افسران جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ہوڈنے آرمی کے ٹرانسفارمیشن اور ٹریننگ کمانڈ کی قیادت کر رہے تھے۔ گرین آرمی کے چیپلین کور کے سربراہ تھے۔ آرمی چیف آف اسٹاف جارج نے اس سے پہلے 2021 سے 2022 تک (بائیڈن انتظامیہ کے دوران) سکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن کے سینئر فوجی معاون کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ پیشہ ور انفنٹری افسر اور ویسٹ پوائنٹ سے گریجویٹ جارج نے سب سے پہلے پہلی خلیجی جنگ میں اور اس کے بعد حال ہی میں ہونے والے عراق اور افغانستان کے تنازعات میں خدمات دیں۔
ہیگستھ نے اور بھی کئی افسران کو ہٹایا ہے۔ ان میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل سی کیو براون، نیول آپریشنز کے چیف ایڈمرل لیسا فرانچیٹی، ایئر فورس کے وائس چیف آف اسٹاف جنرل جیمز اسلائف اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروس شامل ہیں۔
آرمی چیف آف اسٹاف کی مدتِ ملازمت عام طور پر چار سال کی ہوتی ہے۔ جارج کو صدر جو بائیڈن نے اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا اور 2023 میں سینیٹ نے ان کی تقرری کی تصدیق کی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ عام حالات میں وہ 2027 تک اس عہدے پر برقرار رہتے۔ فوج کے موجودہ وائس چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو اب فوج کے قائم مقام چیف آف اسٹاف ہوں گے۔ وہ 2022 سے 2023 تک فوج کی 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے کمانڈنگ جنرل رہ چکے ہیں۔
پینٹاگون کے مرکزی ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ لانیو تجربہ کار اور جنگی تجربہ رکھنے والے لیڈر ہیں۔ ان کے پاس دہائیوں کا آپریشنل تجربہ ہے اور سکریٹری ہیگستھ کو ان پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ اس انتظامیہ کے خواب کو بغیر کسی چوک کے پورا کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن