
جے پور، 3 اپریل (ہ س)۔ راجستھان میں تیزی سے سرگرم ہو رہے ویسٹرن ڈسٹربنس کی وجہ سے موسم نے کروٹ لی ہے۔ جیسلمیر، ناگور، ڈیڈوانہ-کوچامن اور جالور سمیت کئی اضلاع میں جمعہ کی صبح بارش ہوئی۔ کہیں ہلکی تو کہیں موسلادھار بارش کے ساتھ ژالہ باری نے موسم کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور مختلف علاقوں میں اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
جیسلمیر ضلع کے پتھوڈائی گاو¿ں میں صبح تقریباً 15 منٹ تک ژالہ باری ہوئی، جب کہ ڈیڈوانا میں صبح سویرے موسلا دھار بارش ہوئی۔ بارش اور تیز ہواو¿ں سے درجہ حرارت میں کمی ہوئی جس سے گرمی سے راحت ملی۔ جالور میں بھی ہلکی بوندا باندی نے موسم خوشگوار کر دیا ہے۔
بارش اور ژالہ باری سے ریاست کے کئی حصوں بالخصوص سری گنگا نگر، ہنومان گڑھ اور بیکانیر میں گیہوں کی پکی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ کھیتوں میں کھڑی فصلیں گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس سے کسانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
موسمیاتی مرکزجے پور کے مطابق، موجودہ موسمیاتی نظام کا سب سے زیادہ اثر اب دیکھنے کو ملے گا۔ اس دن آٹھ اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں ایلو الرٹ رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 6 اپریل سے ایک اور مضبوط موسمیاتی نظام فعال ہو جائے گا، اس کے اثر کے باعث 7 اور 8 اپریل کو ریاست کے کئی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش، آسمانی بجلی گرنے اور ژالہ باری جیسی سرگرمیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ان نظاموں کے مسلسل فعال ہونے کی وجہ سے ریاست کے لوگوں کو10اپریل تک شدید گرمی اور ہیٹ ویوو سے راحت ملنے کا امکان ہے۔ درجہ بھی 40ڈگری سیلسیس سے نیچے رہنے کی توقع ہے۔
پورے راجستھان میں جہاں موسم میں ہونے والی یہ تبدیلی عام لوگوں کے لئے راحت لے کر آئی، وہیں یہ کسانوں کے لیے پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں موسم کی یہ سرگرمی برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے لیے محتا ط رہنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد