
کینرا بینک علی گڑھ اور شہنواز خان پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کا الزام، پولیس سے شکایت
علی گڑھ، 03 اپریل (ہ س)۔ کینرا بینک کی علی گڑھ کے کیلا نگر شاخ کے افسران، شہنواز خان ترین اور ندیم ترین ایجوکیشن سوسائٹی کے اراکین کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور مجرمانہ سازش کے الزامات میں علی گڑھ پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شکایت کنندہ مہوش خان نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ان کے نام پر بغیر اطلاع اور بغیر دستخط کے 5.5 کروڑ روپے کے بینک قرض میں انہیں ضامن (گارنٹر) بنا دیا گیا اور ان کی علی گڑھ میں واقع کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کو بینک میں رہن (مارگیج) رکھ دیا گیا۔
مہوش خان کے مطابق وہ مکان نمبر 4/1482-A (الربح)، جامعہ اردو روڈ، دودھپور، علی گڑھ کی مالک/شریک مالک ہیں، جو 2006 کی رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے تحت ان کے نام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سال 2021 میں ندیم ترین ایجوکیشن سوسائٹی کے نام پر لیے گئے 5.5 کروڑ روپے کے قرض میں بینک افسران اور ان کے شوہر شہنواز خان نے ملی بھگت کر کے انہیں ضامن بنا دیا اور ان کی جائیداد کو رہن رکھ دیا، جبکہ وہ اس وقت علی گڑھ میں موجود بھی نہیں تھیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ قرض کی قسطیں جان بوجھ کر ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث کھاتہ این پی اے ہو گیا اور بعد میں بینک نے جائیداد کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا، جس کی اطلاع انہیں 2025 میں اخبار میں شائع ہونے والے نیلامی نوٹس سے ملی۔
مہوش خان نے الزام لگایا کہ ان کے جعلی دستخط کر کے دستاویزات تیار کیے گئے اور بینک افسران کی ملی بھگت سے ان کی جائیداد کو سکیورڈ اثاثہ ظاہر کر کے قرض حاصل کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوسائٹی کے نام پر لیا گیا پیسہ ذاتی کاموں میں استعمال کیا گیا، جو منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔شکایت کنندہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ کینرا بینک کے متعلقہ افسران، شہنواز خان ترین اور ندیم ترین ایجوکیشن سوسائٹی کے اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، جعلی دستاویزات ضبط کیے جائیں، فارنسک جانچ کرائی جائے اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔پولیس معاملے کی جانچ کی تیاری کر رہی ہے اور شکایت کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ