پرائیویٹ اسکولوں کی فیس میں بھاری اضافہ پر کے کویتا کا شدیداظہار تشویش
حیدرآباد ، 3 اپریل (ہ س)۔ صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے فیس میں بھاری اضافہ پرشدید تشویش کا اظہار کیا اورکہا کہ 30 سے 40 فیصد تک فیس میں اضافہ کے ذریعہ والدین کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ح
خانگی اسکولوں کی فیس میں بھاری اضافہ پر کے کویتا کا شدیداظہار تشویش


حیدرآباد ، 3 اپریل (ہ س)۔

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے فیس میں بھاری اضافہ پرشدید تشویش کا اظہار کیا اورکہا کہ 30 سے 40 فیصد تک فیس میں اضافہ کے ذریعہ والدین کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر فیس ریگولیشن قانون نافذ کرے اور اس کے لئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے بل منظورکیا جائے۔ کویتا نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کل 39,641 اسکولس ہیں جن میں تقریباً 62 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ان میں 27,581 سرکاری اور12,061 خانگی اسکول ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں 24 لاکھ جبکہ خانگی اسکولوں میں 38 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ خانگی شعبہ میں 350 خصوصی اسکول ہیں جن میں3 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں، جبکہ نارائنا اور چیتنیہ جیسے تقریباً 1200 کارپوریٹ اسکولوں میں 5 لاکھ طلبہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے ہی خانگی اسکول 25 سے 30 فیصد فیس بڑھارہے ہیں، جس سے والدین پربھاری بوجھ عائد ہورہا ہے۔ اگر فیس ایک لاکھ روپئے ہے تواب اس میں مزید 30 ہزارروپئے اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ماہانہ فیس لینے کے بجائے ایک ساتھ 60 فیصد فیس ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف حیدرآباد میں والدین احتجاج کر رہے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ غریب اورمتوسط طبقے کے لئے یہ اضافہ ناقابل برداشت ہے کیونکہ فیس بڑھنے کے لحاظ سے ان کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے افسوس ظاہرکیا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکومت فیس کنٹرول کے لئے کوئی اقدام نہیں کرسکی۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ فیس میں سالانہ 7 تا8 فیصد سے زیادہ اضافہ نہ ہونے دیا جائے اوراس سے زیادہ اضافہ کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ فیس بڑھانے کے باوجود کارپوریٹ اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جاتیں اورنہ ہی پی ایف جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، جس سے خانگی اساتذہ کی زندگی مشکل ہو چکی ہے۔انہوں نے اسکولوں میں خوراک کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ہزاروں طلبہ کے لئے ایک ہی جگہ کھانا تیار کیا جارہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande