
علی گڑھ ڈویژن میں جل جیون مشن پر امپیکٹ اسٹڈی کی شروعات
علی گڑھ، 03 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک نے حکومتِ ہند کے ”ہر گھر جل“ اقدام کے تحت دیہی علاقوں میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کے سماجی، معاشی اور صحت سے متعلق اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک امپیکٹ اسٹڈی کا آغاز کیا ہے۔ اس مطالعے کا مقصد گھریلو نل کنیکشن (ایف ایچ ٹی سی) کی فراہمی سے آنے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنا ہے، جس میں محفوظ پینے کے پانی تک بہتر رسائی اور گاؤوں میں معیارِ زندگی پر اس کے اثرات پر خاص توجہ دی جائے گی۔
فیلڈ ورک کے پہلے مرحلے کا آغاز دھنی پور بلاک کے بھوجپور گاؤں سے کیا گیا، جس سے قبل ضلعی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور یوپی جل نگم (دیہی) کے عہدیداران کے ساتھ ایک رابطہ میٹنگ منعقد کی گئی تاکہ مؤثر نفاذ اور مقامی سطح پر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ریسرچ ٹیم میں پروفیسر نسیم احمد خان، ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر، ڈاکٹر سمیرا خانم اور ڈاکٹر انم آفتاب شامل ہیں۔ ان کی معاونت ریسرچ اسسٹنٹ ڈاکٹر طہٰ فاطمہ اور محمد سمیر خان کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ انویسٹیگیٹرز میں محمد بلال خان، حمزہ علی، مظفر ہاشمی، عبد الحنان، معاذ فاروق اور محمد محسن شامل ہیں۔
یہ مطالعہ کثیر جہتی طریقہ کار پر مبنی ہے، جس میں گھریلو سروے، خصوصاً خواتین کے ساتھ فوکس گروپ مباحثے، اور مقامی گرام پردھان، آشا کارکنان اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ انٹرویو شامل ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد صحت عامہ میں بہتری، بالخصوص پانی سے ہونے والے امراض میں کمی، اور سماجی اثرات جیسے کہ پانی کے حصول میں صرف ہونے والے وقت میں کمی کے ذریعے خواتین کی اختیار دہی کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی پائیداری، دیہی آبی و صفائی کمیٹیوں کی کارکردگی، اور پانی کے معیار کی نگرانی کے نظام کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔
علی گڑھ مرحلے کے بعد اس منصوبے کو ہاتھرس، کاس گنج اور ایٹہ اضلاع تک توسیع دی جائے گی، جو جل جیون مشن کے مؤثر نفاذ اور محفوظ پینے کے پانی تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیڈ بیک میکانزم ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ