
جے پور، 3 اپریل (ہ س)۔
راجستھان کے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے راجستھان کے کانسٹی ٹیوشن کلب کو لے کر ریاستی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی سیریز انتظار شاستر کے چیپٹر 12کے تحت پوسٹ کر کے اس جمہوری مکالمے کیلئے اہم ادارہ بتاتے ہوئے حکومت کی کار کردگی پر سوال کھڑے کئے ہیں۔
گہلوت نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ راجستھان کے کانسٹی ٹیوشن کلب کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید سہولیات جیسے ایک آڈیٹوریم، میٹنگ ہال، کافی شاپ، جم، ریستوراں اور گیسٹ رومز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کو ریاست کے دانشوروں، ادیبوں اور عوامی نمائندوں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ موجودہ بی جے پی حکومت کی ”انتقام کی سیاست“ کی وجہ سے اس اہم ادارے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے براہ راست سوال کیا کہ کلب کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود تقریباً ایک سال تک بند کیوں رہا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ رکنیت سازی کے عمل کو کھلنے کے بعد بھی شفاف طریقے سے کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا۔
گہلوت نے پوچھا کہ کیا حکومت جمہوری بحث اور بات چیت سے ڈرتی ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی وسائل کا ضیاع اور قواعد کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ