جمہوریت پر حملہ، کسانوں کا بحران اور انتظامی ناکامی کے خلاف کانگریس کی تحریک: جیتو پٹواری
جمہوریت پر حملہ، کسانوں کا بحران اور انتظامی ناکامی کے خلاف کانگریس کی تحریک: جیتو پٹواری بھوپال، 03 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے دتیا اسمبلی معاملے، ریاست کے کسانوں کی بدحال صورتحال اور حکومت کے طریقہ کار پر
ایم پی کانگریس صدر جیتو پٹواری


جمہوریت پر حملہ، کسانوں کا بحران اور انتظامی ناکامی کے خلاف کانگریس کی تحریک: جیتو پٹواری

بھوپال، 03 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے دتیا اسمبلی معاملے، ریاست کے کسانوں کی بدحال صورتحال اور حکومت کے طریقہ کار پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ملک میں جمہوریت کی بنیاد اور عوام کا بھروسہ مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل اور ہندوستان کے الیکشن کمیشن پر عوام کا کم ہوتا اعتماد جمہوریت کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔

جیتو پٹواری نے جمعہ کو اپنے بیان میں الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ذریعے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو انصاف کے لیے 60 دنوں کا وقت دیے جانے کے باوجود، اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے آدھی رات کو اسمبلی سکریٹریٹ کھلوا کر ان کی رکنیت ختم کر دی۔ انہوں نے اسے اقتدار کے دباو میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے جمہوری اقدار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف نروتم مشرا کے خلاف پیڈ نیوز کا معاملہ زیرِ التوا ہے، لیکن اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جو حکومت کے دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

کسانوں کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی سی سی چیف پٹواری نے کہا کہ ریاست میں ’کسان کلیان ورش‘ (کسانوں کے بہبود کا سال) درحقیقت ’کسان شوشن ورش‘ (کسانوں کے استحصال کا سال) بن گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کھاد کی کمی کی وجہ سے کسانوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا، جہاں خواتین کے ساتھ بدسلوکی، لاٹھی چارج اور کئی بزرگ کسانوں کی موت تک کے واقعات سامنے آئے، جبکہ حکومت مسلسل کمی سے انکار کرتی رہی۔ ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے مقررہ 50 فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں کیا گیا، جو حکومت کی نیت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔

پٹواری نے گندم کی خریداری میں تاخیر اور باردانہ کی شدید کمی کو لے کر حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2026 میں تقریباً 10 کروڑ باردانہ کی ضرورت تھی، لیکن حکومت نے صرف 2.60 کروڑ کے لیے ہی درخواست دی، جس سے تقریباً 7.5 کروڑ باردانہ کی کمی پیدا ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوٹ ایکٹ کے تحت ریاستی حکومت کو وقت پر مرکز کو درخواست اور ادائیگی کرنی ہوتی ہے، لیکن اس میں سنگین لاپرواہی برتی گئی۔

پٹواری نے کہا کہ ’یہ بحران کسی جنگ کا نتیجہ نہیں، بلکہ حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی وجہ سے کمی ہو سکتی ہے تو وہ پی پی (پلاسٹک) بیگ میں ہو سکتی ہے، جوٹ بیگ میں نہیں، کیونکہ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا جوٹ پیدا کرنے والا ملک ہے۔

پٹواری نے بتایا کہ گندم کی خریداری کی تاریخیں بار بار آگے بڑھائی گئیں - پہلے 16 مارچ، پھر یکم اپریل اور اب 10 اپریل۔ اس بدانتظامی کے باعث کسانوں کو مجبوری میں اپنی فصل کوڑیوں کے دام تاجروں کو فروخت کرنی پڑی، جس سے بڑی تعداد میں کسان معاشی بحران کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے خریداری کی تاریخ تو بڑھائی، لیکن قرض کی ادائیگی کی آخری تاریخ نہیں بڑھائی۔

پٹواری نے کہا کہ حکومت جنگ کا حوالہ دے کر گندم کی خریداری میں تاخیر کر رہی ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ سال 2026 میں 10 کروڑ باردانہ کی ضرورت تھی، لیکن حکومت نے صرف 2 کروڑ 60 لاکھ باردانہ کی ہی درخواست دی۔ تقریباً 7.5 کروڑ باردانہ کی کمی حکومت کی سخت لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہے۔

ریاستی کانگریس صدر نے اعلان کیا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کی حمایت میں ریاست بھر کی منڈیوں میں احتجاج کرے گی۔ بھوپال میں کانگریس کارکن ایک دن کے اپواس پر بیٹھیں گے اور وزیرِ زراعت کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دے کر کسانوں کی آواز بلند کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande