جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی شرح میں اضافہ درج
جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی شرح میں اضافہ درج جموں، 03 اپریل (ہ س)۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی شرح نمو مالی سال 2024-25 میں کم ہو کر 11.18 فیصد رہ گئ
جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی شرح میں اضافہ درج


جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی شرح میں اضافہ درج

جموں، 03 اپریل (ہ س)۔ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کی شرح نمو مالی سال 2024-25 میں کم ہو کر 11.18 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ مالی سال میں 12.51 فیصد تھی، تاہم پچھلے چار برسوں کے دوران یہ شرح 11 سے 12 فیصد کے درمیان برقرار رہی ہے۔یہ رپورٹ جمعرات کو قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کا ہندوستان کی جی ڈی پی میں حصہ معمولی اضافے کے ساتھ 0.79 فیصد ہو گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 0.78 فیصد تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2020-21 سے 2024-25 کے دوران جموں و کشمیر کی معیشت کا حجم 1.67 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.62 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، یعنی تقریباً 95 ہزار کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے، جو معیشت کی بتدریج مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ فی کس آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2020-21 میں 1,01,645 روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 1,54,826 روپے ہو گئی، تاہم یہ اب بھی قومی اوسط سے کم ہے۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق کویڈ وبا کے دوران 2020-21 میں شرح نمو 2.25 فیصد رہی، جو 2021-22 میں بڑھ کر 12.38 فیصد، 2022-23 میں 11.27 فیصد اور 2023-24 میں 12.51 فیصد تک پہنچی، تاہم 2024-25 میں یہ کم ہو کر 11.18 فیصد رہ گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024-25 کے دوران یو ٹی کی آمدنی میں 6.12 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ مرکز سے ملنے والی گرانٹس میں اضافہ ہے، جبکہ اپنی ٹیکس آمدنی میں صرف 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مرکزی امداد پر انحصار بدستور زیادہ ہے۔ کل اخراجات 82,547.28 کروڑ روپے میں سے 85.37 فیصد ریونیو اخراجات پر مشتمل رہے، جن میں سبسڈیز اور دیگر لازمی اخراجات کا بڑا حصہ شامل ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود وسائل دستیاب رہے۔

سرمایہ جاتی اخراجات بجٹ سے کم رہے، جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں رکاوٹ کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ مالی خسارہ بھی مقررہ ہدف کے اندر نہیں رکھا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے واجبات 2020-21 میں جی ایس ڈی پی کے 8.87 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 17.21 فیصد ہو گئے، جبکہ سابق ریاست کے واجبات کو شامل کیا جائے تو یہ شرح 48.47 فیصد تک پہنچ گئی۔

سی اے جی نے مالی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی ہے، جن میں 4,105 کروڑ روپے مالیت کے 1,395 استعمالی سرٹیفکیٹس کی عدم جمع آوری، ہزاروں زیر التوا اے سی بلز، اور خودمختار اداروں کے 28 زیر التوا اکاؤنٹس شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتا ہوا قرض، زیادہ لازمی اخراجات اور کم سرمایہ کاری مالی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے آمدنی بڑھانے، اخراجات پر قابو پانے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سی اے جی نے مالی شفافیت بہتر بنانے، آف بجٹ قرضوں کی بروقت رپورٹنگ اور بہتر بجٹ منصوبہ بندی پر بھی زور دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande