
نئی دہلی،3اپریل (ہ س)۔ گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو” یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔
واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو یو سی سی کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔
دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراءطلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں یو سی سی نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراءطلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراءکو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔
یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں یو سی سی کے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais