
کانپور، 3 اپریل (ہ س)۔ کڈنیکی غیر قانونی خرید-فروخت معاملے میں اب تک آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور سات سے آٹھ اسپتال تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ غازی آباد کے رہائشی ڈاکٹر روہت کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ وہیں،ڈاکٹر علی کے کردار کے حوالے سے تحقیقات جاری ہے اور پوچھ گچھ کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔ پولیس مسلسل شواہد اکٹھے کر رہی ہے اور مزید قانونی کارروائی کو یقینی بنا رہی ہے۔ یہ اطلاع ڈپٹی کمشنر آف پولیس ویسٹ ایس ایم قاسم عابدی نے جمعہ کو دی۔
کانپور کے راوت پور تھانہ علاقے میں سامنے آئے غیر قانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ اسکینڈل کی تحقیقات مسلسل گہری ہوتی جارہی ہے۔ ڈی سی پی کے مطابق، اب تک کل آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ تفتیش کے دوران کئی دیگر ملزمان کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس کی ٹیمیں ان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔
تحقیقات کے دوران غازی آباد کے اندرا پورم کے رہنے والے ڈاکٹر روہت کا نام سامنے آیا ہے۔ پولیس اسے تلاش کر رہی ہے۔ اس کے حوالے سے دیگر ضروری معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ جلد از جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس کو ڈاکٹر علی کے حوالے سے بھی اطلاع ملی تھی جس کی بنیاد پر اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں اس کے گھر والوں نے ان کی شناخت ڈاکٹر کے طور پر نہیں بلکہ ٹیکنیشین کے طور پر کی۔ تاہم یہ تفتیش کا ابتدائی مرحلہ ہے، گرفتاری اور تفتیش کے بعد ہی اس کا کردار واضح ہو سکے گا۔
اس پورے معاملے کی چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران نصف درجن اسپتالوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جہاں گردے کی غیر قانونی پیوندکاری ہونے کا شبہ ہے۔ ان اداروں سے وابستہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ او ٹی ٹیکنیشن سے موصول ہونے والی معلومات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپریشن ڈاکٹر علی نے کیا، تاہم پولیس اس دعوے کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے پولیس مسلسل تحقیقات اور شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔ حاصل ہونے والے حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد