ہندوستان-افریقہ تعلقات فیصلہ کن اور تبدیلی کی سمت بڑھ رہے ہیں: وزیر مملکت برائے امور خارجہ مارگریٹا
نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ امور خارجہ کی وزیر مملکت پبیترا مارگریٹا نے منگل کو کہا کہ ہندوستان-افریقہ تعلقات اب فیصلہ کن اور تبدیلی کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات صدیوں پرانی ثقافتی، تجارت اور نوآبادیاتی جدوجہد کی مشترکہ تاریخ پر مبنی
MOS-EXTERNAL-AFFAIR-INDIA-AFRI


نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ امور خارجہ کی وزیر مملکت پبیترا مارگریٹا نے منگل کو کہا کہ ہندوستان-افریقہ تعلقات اب فیصلہ کن اور تبدیلی کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات صدیوں پرانی ثقافتی، تجارت اور نوآبادیاتی جدوجہد کی مشترکہ تاریخ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے افریقہ کو ہندوستان کی عالمی پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا اور کہا کہ یہ شراکت داری مساوات، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے۔

نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ینگ انڈیا گلوبل فورم میں آج ہندوستان-افریقہ تعلقات پر ایک وسیع تبادلہ خیال کیا گیا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر، سفارت کار، پالیسی ساز، تھنک ٹینک، کاروباری تنظیموں اور میڈیا کے نمائندوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ چکبل گروپ نے اس تقریب کا اہتمام کیا، جس کا مقصد عالمی شراکت داری اور مکالمے کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیر مارگریٹا نے ”وکست بھارت @ 2047“ اور افریقہ کے ”ایجنڈا 2063“ کے درمیان مماثلتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کا مقصد جامع اور پائیدار ترقی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہندوستان کی ترقیاتی شراکت داری صلاحیت کی تعمیر، ملازمت کی تخلیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیجیٹل بااختیار بنانے اور موسمیاتی تعاون پر مرکوز ہے۔ یہ استحصال پر نہیں، بااختیار بنانے پر مبنی ہے۔

انہوں نے آئی ٹی ای سی اور آئی سی سی آر جیسی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ، افریقہ میں 17 نئے ہندوستانی مشن کے آغاز سے کل تعداد 46 ہوگئی ہے۔ انہوں نے 30 لاکھ ہندوستانی باشندوں کو اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کا ایک مضبوط پل قرار دیا۔

اس تقریب میں انگولا، کینیا اور ایتھوپیا سمیت کئی افریقی ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اے اے آرڈی او اور اے اے ایل سی او جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارم ہندوستان-افریقہ شراکت داری کو مزید متحرک اور مستقبل کی طرف دیکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande