ایران کا امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، جوابی کارروائی کی دھمکی
تہران،20اپریل(ہ س)۔ ایران نے اتوار کے روز اپنی ایک تجارتی کشتی پر امریکہ کی بحری فوج کے حملے اور اس پر فوجیوں کو اتارنے کے عمل کا جلد جواب دینے کا عہد کیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کشتی نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد کردہ امریکی محاصرہ توڑنے کی
ایران کا امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، جوابی کارروائی کی دھمکی


تہران،20اپریل(ہ س)۔

ایران نے اتوار کے روز اپنی ایک تجارتی کشتی پر امریکہ کی بحری فوج کے حملے اور اس پر فوجیوں کو اتارنے کے عمل کا جلد جواب دینے کا عہد کیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کشتی نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد کردہ امریکی محاصرہ توڑنے کی کوشش کی۔ٹیلی گرام پر شائع ہونے والے ایک بیان میں ’خاتم الانبیاءہیڈ کوارٹرز‘ کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج جلد جواب دیں گی اور مسلح قزاقی کی اس کارروائی اور امریکی فوج کے خلاف ضروری اقدامات کریں گے۔ فرانس پریس کے مطابق انہوں نے امریکہ پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اتوار کو بتایا تھا کہ ایک امریکی تباہ کن جہاز نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر فائرنگ کی اور پھر اس پر قبضہ کر لیا، کیونکہ اس نے امریکہ کے نافذ کردہ بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز توسکا نے ہمارے بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جہاز نے رکنے کے احکامات کو نظر انداز کیا، جس کے باعث گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہاز نے انجن روم میں شگاف ڈال کر اسے مکمل طور پر روک دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی میرینز اس وقت جہاز کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ توسکا محکمہ خزانہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی زد میں ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں بتایا کہ توسکا کی جانب سے بار بار ملنے والی انتباہی علامات کی تعمیل نہ کرنے کے بعد، تباہ کن جہاز یو ایس ایس سبروانس نے اس کے عملے کو انجن روم خالی کرنے کا حکم دیا جس پر جہاز کے پروپلشن سسٹم کو ناکارہ بنانے کے لیے فائرنگ کی گئی۔

سینٹ کام نے مزید کہا کہ میرینز خلاف ورزی کرنے والے جہاز پر سوار ہو گئے ہیں جو تاحال تحویل میں ہے۔امریکی فوج کی جانب سے ہفتے کی صبح جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جب سے امریکہ نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا ہے، تب سے اب تک 25 کشتیوں نے واپسی کے امریکی احکامات کی تعمیل کی ہے۔ادھر ایک امریکی فوجی اہل کار نے بتایا کہ میرینز کی ایک ٹیم نے ایرانی پرچم بردار جہاز کی تلاشی لی ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ اس کا سامان اب امریکی تحویل میں ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس اہل کار نے مزید کہا کہ امریکی حکام تلاشی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ناکارہ جہاز کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ توسکا ان کئی اہم کشتیوں میں سے ایک تھی جن پر امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار حالیہ دنوں میں محاصرے کی حدود کے اندر اور باہر نظر رکھے ہوئے تھے۔

امریکی صدر نے اتوار کی صبح ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں تہران پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی فائرنگ نے ایک فرانسیسی جہاز اور ایک برطانوی مال بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ادھر فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے - سی جی ایم نے اتوار کو اطلاع دی کہ اس کے ایک جہاز پر ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں انتباہی فائرنگ کی گئی، تاہم عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔واضح رہے کہ تہران نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا جہاں سے عام طور پر دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اصرار کے بعد کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ حتمی معاہدے تک برقرار رہے گا، اسے دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande