پاکستان کے بلوچستان میں باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں تین پولیس اہلکار ہلاک
اسلام آباد، 20 اپریل (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولیس - سکیورٹی فورسز کی جرائم پیشہ افراد اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ دونوں واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور سیکورٹی فورس
Baloch-pak-Police-3-Kill


اسلام آباد، 20 اپریل (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولیس - سکیورٹی فورسز کی جرائم پیشہ افراد اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ دونوں واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ادھر کوئٹہ پریس کلب کے سامنے شہریوں کی طویل بھوک ہڑتال جاری ہے۔ وہ پاکستانی حکومت سے ان لوگوں کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جنہیں جبراً غائب کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔

دنیا نیوز چینل اور دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق، اتوار کو صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار میں چند شرپسندوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی۔ فائرنگ سے خاتون کانسٹیبل سمیت دو پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ خضدار کی ذیلی تحصیل باغبانہ میں پیش آیا۔ سولر پینلز کی چوری کی شکایت ملنے پر پولیس ٹیم چھاپہ مارنے گئی تھی۔ چھاپے کے دوران مسلح شرپسندوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

پولیس نے حملے میں ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ اور خاتون کانسٹیبل ملک ناز کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔ ایڈیشنل سٹیشن ہاو¿س آفیسر ابراہیم شیخ اور کانسٹیبل نجیب اللہ شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال خضدار پہنچا دیا گیا۔ دوسری جانب واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ ضلع مستونگ کے علاقے دشت کمبیلا میں شدید جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل رحمت اللہ خلجی کے نام سے ہوئی ہے جب کہ 6 افراد زخمی ہیں۔ پولیس کے مطابق پاک فوج نے کمبیلا کے میدانی علاقوں کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کیا۔ اس دوران فوج کو باغیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ مسلح باغیوں نے دشت کنڈ مسوری میں سیکورٹی فورسز کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا۔

مزید برآں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف دھرنا اور بھوک ہڑتال 6139ویں روز بھی جاری رہی۔ اس تحریک کا آغاز بلوچ وائس آف مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے کیا تھا۔ بلوچ طالب علم سہیل بلوچ کے بھائی جمیل بلوچ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے وی بی ایم پی کیمپ کا دورہ کیا۔

جمیل نے بتایا کہ ان کے بھائی سہیل احمد (لعل محمد کا بیٹا) اور اس کے دوست فصیح اللہ ( ولد سید عبدالرو¿ف شاہ) کو یکم نومبر 2021 کو بلوچستان یونیورسٹی سے جبری طور پر غائب کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں طالب علم بلوچستان یونیورسٹی میں پاکستان اسٹڈیز (بی ایس) پڑھ رہے تھے اور ہاسٹل میں رہ رہے تھے۔ ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande