
کانگریس نے بی جے پی پر خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر جمہوریت پر “کھلا اور مایوس کن حملہ” کرنے کا الزام عائد کیا
جموں، 19 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کانگریس یونٹ نے اتوار کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر جمہوریت پر “کھلا اور مایوس کن حملہ” کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کو محض انتخابی نعرہ بنا کر ادارہ جاتی ہیرا پھیری کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ کانگریس کی ترجمان نمرتہ شرما نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن قانون میں ترمیم سے متعلق بل کی ناکامی بی جے پی کی اس کوشش کو مسترد کرنے کے مترادف ہے جس کے ذریعے وہ خواتین کے حقوق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ دستور (131ویں ترمیم) بل، جس میں 2029 سے مقننہ میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے 816 کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جمعہ کے روز ایوان زیریں میں منظور نہ ہو سکا۔نمرتہ شرما نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کی حامی رہی ہے اور آج بھی 33 فیصد کوٹے کی مضبوطی سے حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں جب خواتین ریزرویشن قانون منظور ہوا تھا تو پورے اپوزیشن نے اس کی حمایت کی تھی، جو اس معاملے پر قومی اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اس قانون کو مردم شماری اور حد بندی سے جوڑ کر اس کے نفاذ کو غیر یقینی اور مؤخر بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام خواتین کو حقوق دینے کے بجائے انہیں ملتوی کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ یہ مسئلہ صرف سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ حکومت نے خواتین ریزرویشن کے نام پر پارلیمانی نمائندگی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی، جس سے ریاستوں کے درمیان وفاقی توازن متاثر ہو سکتا تھا۔انہوں نے حد بندی کے عمل کو غیر جانبدار انتظامی عمل ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی عمل ہے جو ملک میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی حد بندی کے عمل پر پہلے سنگین سوالات اٹھ چکے ہیں۔
نمرتہ شرما نے بی جے پی پر “سیاسی بلیک میلنگ” کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت کا پیغام یہ تھا کہ یا تو حد بندی کو اس کی شرائط پر قبول کیا جائے یا خواتین ریزرویشن کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بل کا لوک سبھا میں منظور نہ ہونا بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا اور اپوزیشن کے لیے اہم کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف ایک سیاسی جیت ہے بلکہ آئینی اقدار، منصفانہ نمائندگی اور خواتین کی حقیقی بااختیاری کی فتح بھی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کیا جائے، اسے حد بندی سے الگ کیا جائے اور تمام رکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ خواتین کو ان کا جائز حق فوری طور پر مل سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر