
واشنگٹن،19اپریل(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے نام ایک نئے پیغام میںاس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ’امریکہ کا ایک عظیم اتحادی ہے‘۔ٹرمپ نے آج اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہاکہ لوگ اسرائیل کو پسند کریں یا نہ کریں، اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ایک عظیم اتحادی ہے، وہ بہادر اور نڈر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر فریقین کے برعکس جنہوں نے کشیدگی اور دباو¿ کے لمحات میں اپنی حقیقت دکھا دی، اسرائیل طاقت کے ساتھ لڑ رہا ہے اور وہ جیتنا جانتا ہے۔یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی وساطت کاری کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔ یہ صورتحال اس عارضی جنگ بندی کے ختم ہونے میں محض 3 دن باقی رہنے پر پیدا ہوئی ہے جو رواں ماہ 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔یہ بیانات ان اسرائیلی ذرائع کی تصدیق کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ فضائیہ جنگ کے دوبارہ آغاز کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے نقل کیا ہے کہ اسرائیل میں ایران کے خلاف لڑائی کے دوبارہ آغاز کے امکان کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں تل ابیب کے پاس ایران میں اہداف کی فہرست (ٹارگٹ بینک) موجود ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان ہے۔ تاہم ایک اور امریکی عہدیدار نے اسی دوران مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں دوبارہ جنگ کی طرف واپسی کے امکان کا بھی اشارہ دیا ہے۔ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن جوہری مسائل اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔جبکہ ٹرمپ نے پہلے تہران کے ساتھ بہت اچھے مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے بلیک میلنگ پر متنبہ بھی کیا تھا۔تاہم ایران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان آٹھ اپریل سنہ 2026ءسے جاری سیز فائر کے خاتمے میں 3 دن باقی رہنے تک کسی بھی فریق نے مذاکرات کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو چھڑنے والی جنگ کو مستقل طور پر روکنے اور امریکہ و ایران کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان اب بھی ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan