
تہران،19اپریل(ہ س)۔
ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اعلان کیا کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔قالیباف کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے وفود کے درمیان اب ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ سمجھ بوجھ پیدا ہو چکی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدہ ابھی دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود کئی بنیادی معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں قالیباف نے کہا: ہم ابھی بھی حتمی معاہدے سے کافی دور ہیں۔ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے مگر کئی خلا موجود ہیں اور کچھ اہم مسائل ابھی باقی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ اب بھی نمایاں ہے، کیونکہ کچھ نکات پر ایران اپنے مو¿قف پر قائم ہے جبکہ امریکہ کی بھی اپنی ریڈ لائنز ہیں، تاہم یہ اختلافی نکات تعداد میں محدود ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی اس اعلیٰ سطح کی ملاقات جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم رابطہ سمجھی جا رہی ہے، اس میں ایران نے واضح کیا کہ اسے امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں۔اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئے ہیں۔قالیباف نے زور دیا کہ امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے یکطرفہ پالیسیوں اور دباو¿ کے طریقہ کار کو ترک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا: اگر ہم نے جنگ بندی قبول کی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہماری شرائط تسلیم کیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے میدان میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اس وقت ایران ہی آبنائے ہرمز جیسے سٹریٹجک راستے پر کنٹرول رکھتا ہے۔یاد رہے کہ ہفتے کے روز قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی سخت تنقید کی تھی اور ان پر ایران،امریکا معاہدوں کے حوالے سے جھوٹی معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan