
تہران، 19 اپریل (ہ س)۔ ایران نے عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے لیے بے حد اہم آبنائے ہرمز سے متعلق ایک کے بعد ایک سخت فیصلے لیتے ہوئے حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ پہلے ایران نے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے نیا ’پے-اینڈ-پاس‘ پروٹوکول نافذ کیا اور اب ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ہفتہ کی شام سے اس راستے کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت، سیکورٹی اور بچاو خدمات کے لیے فیس ادا کرنے والے جہازوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ ادائیگی نہ کرنے والے جہازوں کی آمد و رفت غیر معینہ مدت کے لیے روک دی جائے گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بیرونی دباو کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ ہفتہ کی شام سے نافذ ہوگا۔ ان کا الزام ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ہوئے جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اور ایرانی جہازوں نیز بندرگاہوں کا بحری محاصرہ جاری رکھا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ان حالات میں اسے اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے یہ سخت قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اس واقعہ کے بعد بین الاقوامی برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے اور کئی ممالک اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن