کشتواڑ کے مغل میدان علاقے میں شیر خوار بچہ ندی میں بہہ گیا۔
جموں, 19 اپریل (ہ س)ضلع کشتواڑ کے مغل میدان علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں عارضی لکڑی کے پل سے گزرتے ہوئے ایک چار ماہ کا شیر خوار بچہ جاں بحق جبکہ دو خواتین کو بحفاظت بچا لیا گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق خواتین اپنے ساتھ شیر خوار بچے کو لے ک
Dronw


جموں, 19 اپریل (ہ س)ضلع کشتواڑ کے مغل میدان علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں عارضی لکڑی کے پل سے گزرتے ہوئے ایک چار ماہ کا شیر خوار بچہ جاں بحق جبکہ دو خواتین کو بحفاظت بچا لیا گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق خواتین اپنے ساتھ شیر خوار بچے کو لے کر ایک ندی پر درخت کے تنے سے بنائے گئے عارضی پل کے ذریعے گزر رہی تھیں کہ اچانک توازن بگڑنے کے باعث تینوں تیز بہاؤ میں گر گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ اور پولیس ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ دونوں خواتین کو بحفاظت نکال لیا گیا تاہم بچہ، جس کی شناخت محمد عثمان ولد محمد اشرف کے طور پر ہوئی ہے، تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔ بعد ازاں اس کی لاش ندی سے برآمد کر لی گئی۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر مستقل پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ اور جموں و کشمیر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس مقام پر موجود پل گزشتہ سال سیلاب میں بہہ گیا تھا جس کے بعد لوگ خطرناک عارضی انتظامات کے سہارے گزرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب پل نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے حادثات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔لوگوں نے متاثرہ خاندان کے لیے مناسب معاوضہ اور فوری طور پر پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر پی ڈی پی رہنما ایڈوکیٹ شیخ ناصر نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ حادثہ انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے۔حکام کی جانب سے تاحال نئے پل کی تعمیر کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande