امراوتی جنسی استحصال معاملے پیسے کے تنازع کا انکشاف
امراوتی ممبئی،19 اپریل(ہ س)۔ پرتواڑا جنسی استحصال معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے جاری تحقیقات میں اب نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس سازش کے مرکزی ملزم ایان احمد اور عزیر خان اقبال خان کے درمیان پیسوں کو لے کر ت
Crime Paratwada Viral Videos Case


امراوتی ممبئی،19 اپریل(ہ س)۔

پرتواڑا جنسی استحصال معاملے کی ایس آئی ٹی کے ذریعے جاری تحقیقات میں اب نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس سازش کے مرکزی ملزم ایان احمد اور عزیر خان اقبال خان کے درمیان پیسوں کو لے کر تنازع چل رہا تھا، جس کے نتیجے میں عزیر نے ایان کے موبائل کا ڈیٹا اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ یہ بات خود ایان احمد نے ایس آئی ٹی کے سامنے اپنے بیان میں قبول کی ہے۔جنسی استحصال سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے از خود پرتواڑا تھانے میں پوکسو ایکٹ اور عوامی بدنامی کے تحت ایان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد ازاں اس کیس کی تحقیقات 42 رکنی ایس آئی ٹی کے حوالے کی گئی۔ ابتدائی پانچ دنوں تک کوئی بھی متاثرہ لڑکی بیان دینے یا شکایت درج کرانے کے لیے سامنے نہیں آئی، تاہم بعد میں قریبی ضلع سے ایک کمسن متاثرہ پولیس تک پہنچی، جس کی تصدیق پولیس سپرنٹنڈنٹ وشال آنند نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اوزر خان نے ایان سے پیسے لیے تھے اور بعد میں اسی نے ایان کے موبائل سے ڈیٹا حاصل کر کے دوسروں کو فارورڈ کیا۔ اس سلسلے میں چھ افراد صرف ویڈیوز فارورڈ کرنے والے پائے گئے ہیں، جبکہ اس گروہ کے دوسرے مقاصد ابھی تک ابتدائی تحقیقات میں واضح نہیں ہو سکے ہیں۔پولیس سپرنٹنڈنٹ وشال آنند نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہر پہلو کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے اور جن افسران و اہلکاروں کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے، اگر وہ تحقیقات میں بے قصور ثابت ہوئے تو ان کی معطلی واپس لے لی جائے گی۔ اس کیس میں جس فلیٹ میں کمسن متاثرہ لڑکیوں کے ساتھ ایان احمد نے جسمانی تعلقات قائم کر کے ویڈیوز بنائے، اس فلیٹ کے مالک کو بھی وقتاً فوقتاً پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جا رہا ہے، جبکہ ایان کے والدین سے بھی مرحلہ وار تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایان احمد سوشل میڈیا پر کافی متحرک تھا اور ویڈیوز بنانے اور موبائل فروخت کے ذریعے پیسے کماتا تھا۔ اس کے رابطے میں آنے والی لڑکیوں میں سے تقریباً 90 فیصد سے اس کی دوستی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کا اس نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے۔مزید یہ کہ ایان کے خلاف مقدمہ درج ہونے سے پہلے اس کے سوشل میڈیا پر تقریباً 17 سے 17.5 ہزار فالوورز تھے، تاہم کیس سامنے آنے اور ایس آئی ٹی تحقیقات شروع ہونے کے بعد اس کے فالوورز میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande