سوشل میڈیا پر گمراہ کن خبریں پھیلانے پر مقدمہ درج۔
پولیس کی اپیل: تصدیق کے بغیر افواہیں نہ پھیلائیں، سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ لکھیم پور کھیری، 19 اپریل (ہ س)۔ میلانی پولیس نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور سنسنی خیز افواہیں پھیلا کر امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے
مقدمہ


پولیس کی اپیل: تصدیق کے بغیر افواہیں نہ پھیلائیں، سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

لکھیم پور کھیری، 19 اپریل (ہ س)۔ میلانی پولیس نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور سنسنی خیز افواہیں پھیلا کر امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔ پولیس نے فیس بک صارف کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

کیا معاملہ تھا؟

14 اپریل کو بانکے گنج میں امبیڈکر جینتی کے موقع پر دو گروپوں کے درمیان اس وقت جھگڑا شروع ہو گیا جب کچھ لوگوں نے بغیر اجازت مجسمہ نصب کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے فوری مداخلت کرکے صورتحال کو قابو میں کیا اور اب تک 33 ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

فیس بک پوسٹ پرموت کی افواہ پھیلائی گئی۔

اس واقعہ کے حوالے سے راہل سونی نے اپنے فیس بک اکاو¿نٹ پر ایک گمراہ کن پوسٹ شیئر کی ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیس کے لاٹھی چارج میں ایک خاتون کی موت ہوئی تھی اور وجے پال گوتم کی پولیس حراست میں موت ہوئی تھی۔ پولیس نے جب ان معلومات کی چھان بین کی تو یہ بالکل غلط اور بے بنیاد پائی گئی۔ پولیس کے مطابق زیر حراست خاتون مکمل طور پر صحت مند ہے اور کسی بھی ملزم کی حراست میں موت نہیں ہوئی۔ پولیس نے راہل سونی کے خلاف میلانی پولیس اسٹیشن میں عوامی امن کو خراب کرنے اور افواہیں پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

کھیری پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی معلومات کو اس کی سچائی کی تصدیق کیے بغیر پھیلانے سے گریز کریں۔ سوشل میڈیا پر نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ بھی ایسی ہی سخت قانونی کارروائی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کی جائے گی۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande