جنگ بندی کے بعد القدس فورس کے سربراہ قاآنی عراق پہنچے
بغداد،19اپریل(ہ س)۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ہفتے کے روز ایک عراقی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ق±دس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی بغداد کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اور خ
جنگ بندی کے بعد القدس فورس کے سربراہ قاآنی عراق پہنچے


بغداد،19اپریل(ہ س)۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ہفتے کے روز ایک عراقی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ق±دس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی بغداد کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں، ساتھ ہی وہ ایران کے حامی مسلح گروہوں اور عراقی سیاسی و عسکری رہنماو¿ں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق قاآنی اپنے دورے میں عراق میں جاری سیاسی تعطل پر بھی بات کریں گے، خصوصاً نئے وزیرِاعظم کے امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران پر، جبکہ سابق وزیراعظم نوری المالکی کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات میں کمی آئی ہے۔یہ 8 اپریل کو ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد قاآنی کے کسی غیر ملکی دورے کی پہلی رپورٹ شدہ سرگرمی ہے۔عراق برسوں سے ایران اور امریکا کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک عراقی سیاست میں انتہائی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

گزشتہ 40 دنوں سے جاری جنگ کے دوران عراق بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ اس دوران حشد الشعبی اور ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر امریکا اور اسرائیل کی طرف منسوب فضائی حملے ہوئے، جبکہ امریکی مفادات پر عراق میں موجود بعض گروہوں نے حملے کیے۔اسی طرح ایران نے بھی عراق کے شمال میں موجود مخالف کرد ایرانی گروہوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ایک اعلیٰ عراقی عہدیدار کے مطابق قاآنی نے سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں اور متعدد مسلح گروہوں کے قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور اس کے عراق پر اثرات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کا مقصد عراق میں ایران کے حامی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور صورتحال کو مزید کشیدگی کی طرف جانے سے روکنا ہے۔

یہ دورہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عراقی سیاسی اتحادکے اندر نئی حکومت سازی کے حوالے سے اختلافات جاری ہیں۔سابق وزیراعظم نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے دوبارہ نامزد کیا گیا تھا، تاہم امریکا کی مخالفت کے بعد ان کی واپسی کے امکانات کمزور ہو گئے ہیں۔11 اپریل کو عراقی پارلیمنٹ نے نزار آمیدی کو صدر منتخب کیا اور اب آئینی طور پر انہیں 15 دن کے اندر سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کے نامزد امیدوار کو حکومت سازی کی دعوت دینا ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande