
تلنگانہ کے آرٹی سی ملازمین 22 اپریل سے ہڑتال کے فیصلے پر قائمحیدرآباد، 17 اپریل (ہ س)۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجودآرٹی سی ملازمین 22 اپریل سے ریاست گیرہڑتال کے فیصلہ پرقائم ہیں۔ وزیرٹرانسپورٹ پونم پربھاکرنے ملازمین کی یونینوں سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال سے دستبرداری اختیارکرتے ہوئے مطالبات پرحکومت سے بات چیت کریں۔ آرٹی سی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 32 مطالبات پیش کرتے ہوئے22 اپریل سے ریاست گیرہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جے اے سی نے 13 مارچ کو ہڑتال کی نوٹس دی تھی لیکن حکومت اورآرٹی سی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل ظاہرنہیں کیا گیا جس پرہڑتال کی برقراری کا فیصلہ کیا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری تھامس ریڈی نے بتایا کہ حکومت اورآرٹی سی انتظامیہ کو 32 مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی گئی ہے۔ اہم مطالبات میں آرٹی سی کاحکومت میں انضمام،لیبریونین کے انتخابات اورسرکاری ملازمین کے مساوی تنخواہ اوردیگرمراعات شامل ہیں۔ ملازمین کی جانب سے تنخواہوں پرنظرثانی اورپراویڈنٹ فنڈ اور دیگربقایہ جات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جے اے سی نے پے ریویژن کمیشن کی تشکیل کی مانگ کی ہے۔ ہڑتال کے نتیجہ میں ریاست میں ٹرانسپورٹ سسٹم متاثرہوسکتا ہے کیونکہ 6000 سے زائد بسیں سڑکوں سے ہٹالی جائیں گی اورمسافرین کو دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ اسی دوران وزیرٹرانسپورٹ پونم پربھاکرنے واضح کیاکہ جو مطالبات حکومت کے اختیارمیں ہیں،ان پرمذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زیر التواء مہنگائی بھتہ جاری کردیا ہے اورمہنگائی بھتہ میں 2.1 فیصد کا اضافہ کیا گیا ۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق