پنجاب میں ریل روکو تحریک ملتوی، کسان تنظیموں نے حکومت کو تین دن کی مہلت دے دی
چنڈی گڑھ، 17 اپریل (ہ س)۔ پنجاب میں کسان تنظیموں نے آج کا ریل بند عارضی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت نے کسانوں سے تین دن کا وقت مانگا تھا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام تنظیموں نے آج کا ریل بند موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کسان رہنما سرون سنگ
پنجاب میں ریل روکو تحریک ملتوی، کسان تنظیموں نے حکومت کو تین دن کی مہلت دے دی


چنڈی گڑھ، 17 اپریل (ہ س)۔

پنجاب میں کسان تنظیموں نے آج کا ریل بند عارضی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت نے کسانوں سے تین دن کا وقت مانگا تھا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام تنظیموں نے آج کا ریل بند موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کسان رہنما سرون سنگھ پنڈھر نے بتایا کہ یہ فیصلہ مختلف کسان تنظیموں کے ذریعہ منعقدہ ورچوئل (زوم) میٹنگ کے بعد متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر، احتجاج دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک چلنا تھا، جس میں ریاست بھر میں ریل خدمات کو روکنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی کابینہ کی میٹنگ بھی طے ہے، اس لیے حکومت کو حل تلاش کرنے کا موقع دینا ضروری سمجھا گیا۔

کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 سے 15 دنوں سے ریاست کے بازاروں میں کسانوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ گندم کی خریداری اور لفٹنگ میں تاخیر کے باعث کاشتکار اپنی فصل لے کر منڈیوں میں بیٹھے ہیں، مالی اور ذہنی پریشانی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کا بنیادی مقصد گندم کی خریداری کے ضوابط کے حوالے سے مرکزی حکومت سے ریلیف حاصل کرنا تھا۔کسان رہنماو¿ں کا الزام ہے کہ پنجاب حکومت نے اس معاملے پر دیر سے کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہریانہ نے پہلے ہی مرکزی حکومت کو خط لکھا تھا، اور راجستھان نے بھی 5 اپریل کو کسانوں کے مسائل پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے ریل روکو تحریک کے اعلان کے بعد مرکزی حکومت کو خط لکھا جس سے مسئلہ مزید بڑھ گیا۔ کسانوں کے مطابق بھگونت مان کی قیادت والی پنجاب حکومت اور اروند کیجریوال کی پالیسیوں میں تاخیر کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، اب مرکزی حکومت کی جانب سے قواعد میں نرمی کا امکان ہے، جس سے جلد ہی خریداری کے عمل کو ہموار کرنے کی امید ہے۔

کسان تنظیموں نے بتایا کہ مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہفتہ کو سمیوکت کسان مورچہ کی ایک اہم میٹنگ لدھیانہ میں بلائی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور کچھ میڈیا آو¿ٹ لیٹس یہ پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں کہ ریل روکو تحریک سے عام لوگوں کو تکلیف ہو گی۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عوام کو تکلیف سے بچنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ تین گھنٹے کے احتجاج کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، حکومت ان کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔کسان رہنماو¿ں نے ریاست کے کسانوں اور مزدوروں سے چوکس اور تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ منڈیوں میں جہاں بھی خریداری سے متعلق مسائل درپیش ہیں، مقامی سطح پر متحد ہو کر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ کسان تنظیموں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر تین دن کے اندر مسائل حل نہ ہوئے تو وہ اپنے احتجاج کو تیز کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande