
مہم چلا کر کھاد اور بیج فروخت کرنے والے اداروں کی جانچ کریں: وزیر کشواہہ
۔ ناقص معیار کا بیج فراہم کرنے والی حیدرآباد کی کمپنی پر پابندی عائد
۔ کمپنی کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج
بھوپال، 17 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ کے وزیر نارائن سنگھ کشواہہ نے خصوصی مہم چلا کر ریاست میں کھاد اور بیج فروخت کرنے والے اداروں اور دکانوں کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر کشواہہ نے جمعہ کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دھار اور کھرگون ضلع میں کسانوں کو کریلے (سبزی) کا ناقص معیار کا بیج فراہم کرنے سے کسانوں کی فصل کو کافی نقصان ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ناقص معیار کا بیج فراہم کرنے والی کمپنی ’نون ہیمس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ‘ حیدرآباد (تلنگانہ) پر پابندی لگا کر کمپنی کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔
وزیر کشواہہ نے کہا کہ کسانوں کو باغبانی کی فصلوں کا بہترین معیار کا بیج فراہم کرنا ریاستی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی ہے کہ تمام اضلاع میں کھاد اور بیج فروخت کرنے والے اداروں کی جانچ مہم چلا کر کی جائے۔ اس کے لیے بھوپال میں واقع نظامت کے سینئر افسران بھی اضلاع کا دورہ کر کے اداروں کا اچانک معائنہ کریں۔
وزیر کشواہہ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی کمپنی نون ہیمس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ حیدرآباد کی جانب سے ضلع دھار کے بلاک دھرمپوری، امر بن، مناور، ڈہی، ککشی اور نسر پور نیز کھرگون ضلع کے مہیشور، بڑواہ اور کسراود بلاک کے کسانوں کو کریلے کی ’روبسٹا‘ قسم کے بیج فروخت کیے گئے تھے۔ کسانوں کی جانب سے ضلع دھار میں 84 ہیکٹیئر اور کھرگون ضلع میں 110 ہیکٹر رقبے پر کریلے کی فصل لگائی گئی تھی۔ لیکن فصل لگانے کے 80 سے 90 دن بعد بھی کریلے کی فصل ناقص معیار کے ساتھ پودوں پر آئی، جس کے پھل پیلے پڑ کر خود ہی بیل سے ٹوٹ کر گر رہے تھے۔
کسانوں کی شکایت پر کلکٹر دھار اور کھرگون کی جانب سے مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر کھیتوں میں فصلوں کی جانچ کرائی گئی۔ جس کے پہلی نظر میں درست پائے جانے پر، اشیائے ضروریہ ایکٹ 1955 کی دفعہ 3، بیج ایکٹ 1966 اور بیج کنٹرول ایکٹ 1983 کے ضوابط کی خلاف ورزی پائے جانے پر میسرز نون ہیمس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ حیدرآباد (تلنگانہ) کی تیار کردہ کریلے کی فصل کی ناقص معیار کی روبسٹا قسم کو اگلے حکم تک دھار اور کھرگون ضلع میں فروخت، ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ضلع دھار میں کمپنی کے خلاف مجرمانہ مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن