
ضلع انتظامیہ جموں نے سوشل میڈیا پر نفرت، اشتعال انگیز مواد کی اشاعت پر پابندی عائد
جموں، 17 اپریل (ہ س)۔ ضلع انتظامیہ جموں نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، اشتعال انگیز اور جعلی ویڈیوز کی اشاعت پر سخت پابندی عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جموں، ڈاکٹر راکیش منہاس نے بی این ایس ایس 2023 کی دفعہ 163 کے تحت ایک حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت ایسے مواد کو پوسٹ، شیئر یا فارورڈ کرنے پر 60 دن کے لیے مکمل پابندی نافذ کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور ضلع جموں کے تمام افراد پر لاگو ہوگا، چاہے مواد کسی بھی پلیٹ فارم یا مقام سے شیئر کیا گیا ہو، اگر اس سے امن و امان متاثر ہوتا ہے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہب، ذات، زبان یا علاقے کی بنیاد پر نفرت پھیلانے، جعلی یا ایڈیٹ شدہ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے، افواہیں پھیلانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو تشدد کے لیے اکسانے پر مکمل پابندی ہوگی۔
یہ پابندی واٹس ایپ، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹیلیگرام سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نافذ رہے گی۔ حکام نے مزید کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا 2023 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ دفعات کے تحت تین سال تک قید یا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ایس ایس پی جموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں فوری ایف آئی آر درج کریں، جبکہ سائبر کرائم یونٹ کو 24 گھنٹے سوشل میڈیا کی نگرانی کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک مواد کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
یہ حکم 60 دن تک نافذ العمل رہے گا، جب تک کہ اسے پہلے واپس یا ترمیم نہ کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر