
امراوتی، 17 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے امراوتی ضلع کے پرتواڑا-اچل پور علاقے میں دو نوجوانوں کے درمیان تنازعہ کے بعد کئی لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے سنسنی پھیل گئی ہے، جس کے بعد پورے علاقے میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔موصولہ معلومات کے مطابق ایان اور اس کا دوست حسین دونوں سوشل میڈیا پر سرگرم تھے۔ ایان خود کو یوٹیوبر کے طور پر پیش کر کے لڑکیوں سے رابطے بڑھاتا تھا اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کئی لڑکیاں فالوورز کے طور پر جڑی ہوئی تھیں۔ الزام ہے کہ وہ اس جان پہچان کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکیوں سے چیٹ کرتا اور انہیں ملاقات کے لیے آمادہ کرتا تھا۔ملاقات کے بعد متعلقہ لڑکیوں کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی تھیں، جنہیں بعد میں اس کا دوست حسین کے پاس بھیجا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کے درمیان لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی ایک طرح کی مقابلہ آرائی بھی جاری تھی، جس کا الزام شہریوں کی جانب سے لگایا جا رہا ہے۔بعد ازاں کسی وجہ سے ایان اور حسین کے درمیان تنازعہ پیدا ہو گیا، جس کی وجہ مالی معاملات بتائی جا رہی ہے۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس جھگڑے کے بعد حسین نے غصے میں آ کر ایان کی جانب سے بھیجی گئی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔اس واقعے کے باعث کئی لڑکیوں کی بدنامی ہوئی ہے اور ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔واقعے کے بعد پرتواڑا-اچل پور علاقے میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے ذریعے لڑکیوں کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔پولیس نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جانچ کے دوران مزید چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔ سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ملزمان کے خلاف کتنی سخت کارروائی کی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے