
شعبہ سوشل ورک نے جل جیون مشن کے اثرات کے مطالعے کا ابتدائی مرحلہ مکمل کر لیا
علی گڑھ، 13 اپریل (ہ س)۔ شعبہ سوشل ورک نے ضلع علی گڑھ میں جل جیون مشن کے اثرات کے جائزے کے اپنے مطالعے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جبکہ اس مطالعے کو ایٹہ، ہاتھرس اور کاس گنج اضلاع تک وسعت دینے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ یہ مطالعہ ریاستی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن (ایس ڈبلیو ایس ایم)، حکومت اتر پردیش کی ہدایت پر، یوپی جل نگم (دیہی) اور ڈسٹرکٹ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (ڈی پی ایم یو) کے اشتراک سے انجام دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ’ہر گھر جل‘ اقدام کے سماجی، معاشی اور صحت سے متعلق اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
ابتدائی مرحلے کے دوران، تحقیقی ٹیم نے مختلف مواضعات بشمول بھوجپور (دھنی پور)، پڈکا سلطان پور (جواں)، جتن پور چکواتی (لوڈھا)، بہادرپور (اکراباد)، میر گڑھی (اٹرولی)، پہاوتی (چندوس)، ادے گڑھی (کھیر)، نگلا کلوا (گونڈا) اور چھجّوپور (ٹپّل) میں وسیع فیلڈ ورک کیا۔اس مطالعے میں کثیر رخی طریقہ عمل اپنایا گیا، جس میں خواتین کے ساتھ فوکس گروپ مباحثے، مقامی شراکت داروں جیسے گرام پردھان، آشا کارکنان اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ معلوماتی انٹرویوز، اور کمیونٹی سطح پر مشاہدات شامل تھے۔ ابتدائی نتائج سے دیہی زندگی میں مثبت تبدیلیوں کی نشاندہی ہوتی ہے، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے وقت کی بچت، جسے اب تعلیم اور آمدنی بڑھانے والی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ٹیم نے پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کا تکنیکی جائزہ بھی لیا، جس میں گھریلو نل کنکشنز کی فعالیت کی تصدیق، پانی کے دباؤ کی سطح، اور جل سکھیوں کی جانب سے فیلڈ ٹیسٹ کٹ کے ذریعے پانی کے معیار کی جانچ کے طریقہ کار کا معائنہ شامل تھا۔ پائیداری کو برقرار رکھنے میں دیہی واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹیوں کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ریسرچ ٹیم میں اساتذہ ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر شامل تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ