امریکی فوج آج صبح دس بجے سے گھیرے گی ایرانی بندرگاہ، آئی آر جی سی نے کہا، آبنائے ہرمز کھلا ہے
واشنگٹن/تہران، 13 اپریل (ہ س)۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) نے اتوار کو کہا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ کارروائی 13 اپریل کی صبح 10.00 بجے (مشرقی وقت) سے شروع ہوگی۔ سینٹ کوم کے اعلان کے بعد ایران کی سپاہ پاسدار
علامتی تصویر


واشنگٹن/تہران، 13 اپریل (ہ س)۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) نے اتوار کو کہا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ کارروائی 13 اپریل کی صبح 10.00 بجے (مشرقی وقت) سے شروع ہوگی۔ سینٹ کوم کے اعلان کے بعد ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سویلین جہازوں کے لیے کھلا ہے۔ اگر کوئی فوجی جہاز گزرا تو سختی سے نمٹا جائے گا۔

الجزیرہ چینل، سی بی ایس نیوز اور فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سینٹ کوم نے اتوار کو ایکس پر کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم پر وہ 13 اپریل کو صبح 10.00 بجے (مشرقی وقت) سے ایرانی بندرگاہوں میں آنے اور باہر جانے والی تمام بحری ٹریفک پر ناکہ بندی نافذ کرے گا۔ یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے ایسے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی جو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل یا خارج ہوں گے۔ اس میں بحیرہ عرب کی خلیج اور خلیج عمان کی ایرانی بندرگاہیں بھی شامل ہیں۔

سینٹ کوم نے یہ واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے یا آنے والے جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ سینٹ کوم نے کہا، ’’محاصرہ شروع ہونے سے پہلے ایک رسمی اطلاع کے ذریعے تجارتی ملاحوں کو اضافی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ تمام ملاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نشریات پر نظر رکھیں اور خلیج عمان نیز آبنائے ہرمز کے ملحقہ علاقوں میں آپریشن کرتے وقت ’برج ٹو برج چینل 16‘ پر امریکی بحری افواج سے رابطہ کریں۔‘‘

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز عام شہری جہازوں کے لیے کھلا ہے۔ اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ اگر وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، تو انہیں محفوظ گزرنے دیا جائے گا۔ لیکن کوئی بھی فوجی جہاز وہاں آیا، تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی مانا جائے گا۔ ایسے جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز میں مائن سویپرز جہاز (بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے) بھیجیں گے۔ مگر برطانیہ نے ٹرمپ کے دعوے کے برعکس بیان دیا ہے۔ ایک ذریعہ نے کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کی کسی بھی امریکی منصوبہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا، ’’ہم جہاز رانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز پر کسی بھی طرح کا ٹول نہیں لگایا جانا چاہیے۔ ہم جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے ایک وسیع اتحاد بنانے کے لیے فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande