ہنگری کے پارلیمانی انتخابات میں 16 برس سے برسراقتدار اوربان کی پارٹی کو شکست
بڈاپیسٹ، 13 اپریل (ہ س)۔ ہنگری میں پارلیمانی انتخابات کے لیے اتوار کو ہوئی ووٹنگ کے تقریباً تمام نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ ملک کے عوام نے 16 برس سے برسراقتدار وزیراعظم وکٹر اوربان کو ہرا کر اپوزیشن پارٹی ’تسا‘ کے لیڈر پیٹر ماگیار کو مینڈیٹ سونپا ہے۔
ہنگری کی راجدھانی بڈاپیسٹ میں اپوزیشن کی جیت کا جشن منایا گیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


بڈاپیسٹ، 13 اپریل (ہ س)۔ ہنگری میں پارلیمانی انتخابات کے لیے اتوار کو ہوئی ووٹنگ کے تقریباً تمام نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ ملک کے عوام نے 16 برس سے برسراقتدار وزیراعظم وکٹر اوربان کو ہرا کر اپوزیشن پارٹی ’تسا‘ کے لیڈر پیٹر ماگیار کو مینڈیٹ سونپا ہے۔ اوربان کی شکست سے امریکہ کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تو ووٹنگ سے پہلے ہی وکٹر اوربان کو ہنگری کا اگلا وزیراعظم قرار دے دیا تھا۔

’’دی بڈاپیسٹ ٹائمز‘‘ اور سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس انتخاب میں تسا پارٹی نے 138 سیٹیں حاصل کر لی ہیں۔ یہ دو تہائی اکثریت کے لیے کافی ہے۔ فیڈز-کے ڈی این پی اتحاد نے 54 اور ’می ہجانک‘ نے سات سیٹیں حاصل کی ہیں۔ اپنی شکست قبول کرتے ہوئے وزیراعظم وکٹر اوربان نے بڈاپیسٹ کے بالن بڈاپیسٹ میں حامیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے نتیجہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے لیے یہ نتیجہ دکھ بھرا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے مادرِ وطن اور ہنگری کی قوم کی خدمت کرتے رہیں گے۔

اسی دوران، تسا پارٹی کے لیڈر پیٹر ماگیار نے اتوار کی شام بڈاپیسٹ کے بتھیانی اسکوائر پر زبردست جیت کا اعلان کیا۔ انہوں نے حامیوں سے کہا، ’’ہم نے بھاری اکثریت سے انتخاب جیت لیا ہے۔ ہم نے ہنگری کو آزاد کرا لیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہنگری کی جمہوری تاریخ میں اس سے پہلے کبھی اتنی بھاری ووٹنگ نہیں ہوئی۔ تقریباً 33 لاکھ ووٹروں نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

ادھر، جب اوربان نے اپنے حریف پیٹر کے سامنے شکست قبول کر لی تو کچھ لوگوں کو یہ تبدیلیِ اقتدار جیسا لگا۔ مصنف اور شاعر آندراس پیٹوکز نے کہا کہ اس احساس نے انہیں سوویت یونین کے زوال کے وقت بڈاپیسٹ میں ہونے کی یاد دلا دی۔ انہوں نے کہا:

’’جب کمیونسٹ حکومت ختم ہوئی، تب میں 30 سال کا تھا۔ یہ بالکل ویسا ہی احساس ہے - بالکل ویسا ہی۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ اس انتخاب کا پہلا سبق یہ ہے کہ قوم پرستی کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا مشکل ہے۔ قومی خود مختاری کے محافظ کے طور پر اتنے طویل عرصے تک حکومت کرنے کے باوجود، یورپی یونین اور لبرل نظریات کے مبینہ خطرات سے ہنگری کی حفاظت کا عہد لیتے ہوئے، اوربان کی انتخابی مہم بالآخر ریاستہائے متحدہ امریکہ اور روس میں مقیم اپنے طاقتور بین الاقوامی حامیوں کے سہارے ہی چلی۔ اس انتخاب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھرپور دلچسپی لی۔ انہوں نے اپنے سوشل ٹروتھ پر ووٹروں سے کہا، ’’باہر نکلو اور وکٹر کو ووٹ دو۔ وہ سچا دوست، جنگجو اور فاتح ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande