گورنر اور وزیراعلیٰ سمیت سیاسی رہنماؤں کا آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت، آشا بھوسلے ایک باصلاحیت اور عظیم گلوکارہ تھیں: فڑنویس
ممبئی، 12 اپریل (ہ س)۔ بھارتی سنیما کی نامور پلے بیک سنگر، پدم وبھوشن اور مہاراشٹر بھوشن آشا بھوسلے کے انتقال پر مہاراشٹر کے گورنر جیشنو دیو ورما، وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ک
Demise Maha Asha Bhosle Funeral


ممبئی، 12 اپریل (ہ س)۔

بھارتی سنیما کی نامور پلے بیک سنگر، پدم وبھوشن اور مہاراشٹر بھوشن آشا بھوسلے کے انتقال پر مہاراشٹر کے گورنر جیشنو دیو ورما، وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آشا بھوسلے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں ایک باصلاحیت اور عظیم گلوکارہ کے طور پر پہچانی جاتی تھیں، جنہوں نے اپنی منفرد آواز اور مختلف موسیقی اصناف میں مہارت کے ذریعے کئی نسلوں کے دلوں پر راج کیا۔

گورنر جیشنو دیو ورما نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آشا بھوسلے نے اپنے تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط کیریئر میں مختلف زبانوں اور موسیقی کے انداز میں بے شمار لازوال گیت پیش کر کے بھارت کی ثقافتی وراثت کو مزید مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا فن سے لگاؤ اور وابستگی آنے والی نسلوں کے فنکاروں اور مداحوں کے لیے ہمیشہ باعثِ ترغیب رہے گی۔ گورنر نے کہا کہ ان کا مشہور گیت ’’جو بھی ہے بس یہی ایک پل ہے‘‘ ان کی زندگی کے فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آشا بھوسلے کے انتقال سے موسیقی کی دنیا، خاص طور پر مہاراشٹر کو ایک ایسا نقصان ہوا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آشا جی ان کے خاندان سے بھی قریبی تعلق رکھتی تھیں کیونکہ ان کی شادی آر ڈی برمن سے ہوئی تھی۔ آخر میں گورنر نے مہاراشٹر کے عوام، اہلِ خانہ اور موسیقی سے وابستہ افراد سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی عظیم گلوکارہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’آشا تائی کی آواز موسیقی کی روح تھی اور ان کے جانے سے آج سروں کا خوبصورت باغ ویران ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تین سال قبل اپنا 90 واں یومِ پیدائش شاندار انداز میں منانے والی آشا بھوسلے کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ لتا منگیشکر کے بعد منگیشکر خاندان کا ایک اور درخشاں ستارہ ہم سے جدا ہو گیا ہے۔

فڑنویس نے کہا کہ آشا بھوسلے کی آواز میں ہمیشہ تازگی، جذبات اور خوبصورتی کا امتزاج رہا۔ انہوں نے ’’تورا من درپن کہلائے‘‘ سے لے کر ’’کھلاّس‘‘ جیسے مختلف انداز کے گیت گائے اور بھجن، غزل، کلاسیکی، لوک، پاپ اور فلمی موسیقی سمیت ہر صنف میں اپنی چھاپ چھوڑی۔ انہوں نے مراٹھی، ہندی، بنگالی سمیت 20 سے زائد زبانوں میں 12 ہزار سے زیادہ گانے گائے اور انہیں مہاراشٹر بھوشن اور بنگلا وبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔

نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ آشا بھوسلے بھارتی موسیقی کی ایک روشن اور مضبوط ستون تھیں، جنہوں نے اپنی آواز سے پوری دنیا کو مسحور کیا۔ انہوں نے کہا کہ آشا تائی کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا بیان سے باہر ہے اور ہر مداح کے دل سے یہی صدا آ رہی ہے ’’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر، کہ دل ابھی بھرا نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آشا بھوسلے نے اپنی گائیکی سے لوگوں کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی جدائی ناقابلِ برداشت محسوس ہو رہی ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے بھی آشا بھوسلے کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے سے بھارتی موسیقی کے ایک سنہرے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو دہائیوں سے زائد کے طویل کیریئر میں آشا بھوسلے نے کلاسیکی سے لے کر پاپ موسیقی تک ہر صنف میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے نام 20 سے زائد زبانوں میں ہزاروں گانے گانے کا عالمی ریکارڈ ہے اور ان کی ہر پیشکش آج بھی تازگی اور دلکشی سے بھرپور محسوس ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ این سی پی (ایس پی) کے صدر شرد پوار، نائب وزیر اعلیٰ سنیترہ پوار، شیوسینا (یو بی ٹی) کے صدر ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بھی آشا بھوسلے کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande