
جموں, 12 اپریل (ہ س)مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کٹھوعہ میں منعقدہ ضلع ترقیاتی رابطہ و نگرانی کمیٹی (ڈدیشا) اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے کئی اہم اعلانات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے سے زیر التوا اجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ کو منظوری مل گئی ہے، جسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تقریباً ایک صدی قبل تصور کیا گیا تھا مگر مختلف وجوہات کی بنا پر التوا کا شکار رہا۔ اب اس کی تکمیل سے آبپاشی کی سہولیات میں اضافہ ہوگا اور خطے کی مجموعی ترقی کو فروغ ملے گا۔
وزیر نے مزید کہا کہ شاہپور کنڈی بیراج منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور توقع ہے کہ اسے آئندہ ایک ماہ میں فعال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس منصوبے کا سنگ بنیاد اندرا گاندھی نے رکھا تھا، تاہم بعد میں یہ منصوبہ طویل عرصے تک رکا رہا۔ بعد ازاں 2019 میں نریندر مودی کی مداخلت سے اس پر کام دوبارہ شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی–امرتسر–کٹرا ایکسپریس وے پر کام تیزی سے جاری ہے اور جلد ہی اسے وجے پور تک کھول دیا جائے گا، جبکہ باقی حصے کی تعمیر بھی جاری ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف سفر کا وقت کم ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
کھیلوں کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہیرانگر میں ارون جیٹلی انٹرنیشنل اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے اضافی زمین کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے نوجوانوں کو جدید سہولیات میسر آئیں گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کٹھوعہ تک پائپڈ نیچرل گیس کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کا کام آئندہ چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا، جس سے عوام کو ماحول دوست توانائی دستیاب ہوگی۔
اجلاس کے دوران وزیر نے پانی، بجلی اور سڑکوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے دھار روڈ کی خستہ حالت کا بھی نوٹس لیتے ہوئے فوری مرمت کے احکامات جاری کیے۔
غیر قانونی کان کنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پی ایم سواندھی اسکیم اور پی ایم سوریہ گھر اسکیم کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں مختلف ارکان اسمبلی، پی آر آئی نمائندگان اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر