ہندوستان کی تعمیر اور ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کے غیر معمولی تاریخی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
دہلی میں ہندوستان میں مسلم تاریخ پر منعقدہ کانفرنس میں ششی تھرور، سید سعادت اللہ حسینی،منوج جھا و دیگر ماہرین کا اظہار خیال نئی دہلی،11اپریل(ہ س)۔ ’انڈیا ہسٹری فورم ‘ کے تحت انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک عظیم الشان دو روزہ کانفرنس کا آغاز ہوا۔
ہندوستان کی تعمیر اور ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کے غیر معمولی تاریخی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا


دہلی میں ہندوستان میں مسلم تاریخ پر منعقدہ کانفرنس میں ششی تھرور، سید سعادت اللہ حسینی،منوج جھا و دیگر ماہرین کا اظہار خیال نئی دہلی،11اپریل(ہ س)۔

’انڈیا ہسٹری فورم ‘ کے تحت انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک عظیم الشان دو روزہ کانفرنس کا آغاز ہوا۔ یہ کانفرنس ”ہندوستان کی تاریخ، معاشرے اور تہذیب کے ارتقاءمیں مسلمانوں کا کردار“کے مرکزی عنوان کے تحت منعقد کی جا رہی ہے۔ پروگرام کے پہلے دن جناب ششی تھرو ( ایم پی لوک سبھا)، سید سعادت اللہ حسینی ( امیر جماعت اسلامی ہند) گردیپ سنگھ سبل (کانگریس لیڈر)، محمد ادیب ( سابق ممبر راجیہ سبھا)، ، منوج کمار جھا ( ایم پی راجیہ سبھا)، اشوک کمار پانڈے( مصنف)اشوک کمار پانڈے، ڈاکٹر شاداب موسی (کنوینر انڈیا ہسٹری فورم) و دیگر ماہرین اور اہم شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ششی تھرو نے کہا کہ ’ ہماری تاریخ میں بہت کچھ ہے۔ اور بہت سی غلط اور غیر حقیقی کہانیوں کو بھی تاریخ کا حصہ بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ ان حالات میں تاریخ کے درست بیانیہ کو سمجھنا اور سچائی تک پہنچنا اور اسے سماج تک پہنچا نا بےحدضروری ہے۔“امیر جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ تاریخ کسی بھی قوم اور ملک کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ تاریخ صرف معلومات نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد پر مسقتبل کی تعمیر ہوتی ہے۔ ہمارا ملک بھارت تاریخ کے اس اہم حصے کو جو اسلام اور مسلمانوں کی عظیم تاریخی خدمات سے متعلق ہے کو بھول نہ جائے ، اجتماعی نسیان کا شکار نہ ہو جائے ، اس میں افراد کی ذاتی پسند اور نا پسند شامل نہ ہوجائے،اس کے لیے اس طرح کی کانفرنسز اور پروگرام بے حد اہم ہیں۔ ا?ج تاریخ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں اور انصاف پسند افراد کو آگے بڑھ کر تاریخ کے درست بیانیہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے“۔

ممبر آف پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے کہا کہ ا?ج تاریخ کو بدلنے کی کوشش کی جار ہی ہے، یہ ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے، ہماری تاریخ ہمارا اثاثہ ہے، اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے“۔ گردپ سنگھ سبل نے کہا کہ آج تاریخ کو بدلنے کی کوشش ملک میں افسوسناک حد تک پہنچ گئی ہے“، محمد ادیب نے کہا کہ جب کسی تہذیب کو ختم کرنا ہو تو تاریخ بدل دی جاتی ہے۔یہی کام آج ہو رہا ہے۔ اس سے ہماری شناخت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے“۔کانفرنس میں مختلف تاریخ دان شخصیات اور ماہرین کی جانب سے معیشت ، تجارت ،سماجیات، سیاست وغیرہ میدانوں میں مسلمانوں کی عظیم الشان خدمات پر علمی و تحقیقی مقالہ پیش کیے گئے۔ اس موقع پر ایک مخصوص سیشن مسلم خواتین کے تاریخی کردار سے متعلق بھی رکھا گیا۔کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے علماءدانشواران، ریسرچ اسکالرز ، مذہبی پیشوا، اور سماجی کارکنوں و عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ملک میں تاریخ کے درست بیانیہ کی تشکیل کے ذریعے ملک و ملت کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande