
نئی دہلی، 11 اپریل (ہ س)۔ دہلی حکومت نے ہفتہ کو ”دہلی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2026“ کا نیا مسودہ جاری کیا۔ عوام اگلے 30 دنوں (11 مئی تک) تک اپنی تجاویز پیش کر سکیں گے۔ نئی پالیسی میں خاطر خواہ سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ ایک بارنافذالعمل ہونے کے بعد، یہ پالیسی 2030 تک مو¿ثررہے گی۔
دہلی ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد دہلی کی ہوا کو آلودگی سے پاک کرنا اور لوگوں کو پیٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کی ترغیب دینا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کو مزید کفایتیبنانے کے لیے کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ مختلف گاڑیوں کے لیے سبسڈی سال بہ سال مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم ڈی بی ٹی کے ذریعے براہ راست آپ کے بینک اکاو¿نٹ میں جمع ہو جائے گی۔
الیکٹرک ٹو وہیلر (اسکوٹر/بائیکس) کے لیے پہلے سال میں 10,000 روپے تک (زیادہ سے زیادہ 30,000 روپے تک) ، دوسرے سال 6,600 روپے سے زیادہ (زیادہ سے زیادہ 20,000 روپے تک) اور تیسرے سال میں 3,300 روپے سے زیادہ (زیادہ سے زیادہ 10,000 روپے تک) رجسٹریشن سال کی ترغیب فراہم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ، الیکٹرک ٹو وہیلر کی فیکٹری سے نکلنے کے وقت کی قیمت 2.25 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ای -آٹو (تھری وہیلر) کے لیے پہلے سال50,000 روپے، دوسرے سال 40,000 روپے اور تیسرے سال30,000 روپے کی مالی مدد فراہم کی جائیں گی۔ ای-ٹرکوں (مال ڈھلائی) کے لیے، رجسٹریشن سال کے ترغیبی نوٹیفکیشن کی تاریخ سے پہلے سال 1 لاکھ روپے ، دوسرے سال75,000روپے ، اور تیسرے سال2.50 روپے لاکھ سے زیادہ کی خاطر خواہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
اگر آپ اپنی پرانی پٹرول یا ڈیزل کار کو کباڑ میں دے کر نئی الیکٹرک کار خریدتے ہیں، تو حکومت آپ کو ایک لاکھ روپے کی اضافی چھوٹ فراہم کرے گی۔ یہ اسکریپنگ بونس دو پہیوں کے لیے 10,000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ پرانے آٹو کے بدلے 25,000 روپے اور پرانے لائٹ ٹرکوں کے لیے 50,000 روپے کی اضافی چھوٹ دستیاب ہوگی۔ 31 مارچ 2030 تک 30 لاکھ روپے تک کی الیکٹرک کاروں کے لیے روڈ ٹیکس اور درخواست کی فیس مکمل طور پر معاف کر دی جائے گی۔ دہلی کے قومی دارالحکومت علاقہ میں رجسٹرڈ تمام الیکٹرک کاریں جن کی ایکس شو روم قیمت 30 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، کو کوئی روڈ ٹیکس یا رجسٹریشن فیس کی چھوٹ نہیں ملے گی۔
دہلی ٹرانسکو لمیٹڈ (ڈی ٹی ایل) کو ای وی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ پالیسی کے مطابق، اب ہر گاڑی ڈیلر کے لیے اپنے شوروم پر پبلک چارجنگ اسٹیشن نصب کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ ، سوسائٹیوں اور عوامی مقامات پر چارجنگ پوائنٹس کے لیے 'سنگل ونڈو' کی سہولت متعارف کرائی جائے گی۔
حکومت نے آلودگی کو کم کرنے کے لیے کچھ ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ ان میں یکم جنوری 2027 سے دہلی میں صرف الیکٹرک تھری وہیلروں کی لازمی رجسٹریشن اور 1 اپریل 2028 سے دہلی میں صرف الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں (اسکوٹر/بائیکس) کی لازمی رجسٹریشن شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تمام اسکول بسوں کو 31 مارچ 2030 تک الیکٹرک میں تبدیل کر نا ہوگا۔ اب سے، حکومت جو بھی نئی گاڑیاں کرایے پر لے گی یا خریدے گی، وہ صرف الیکٹرک گاڑیاں ہوں گی۔
عام لوگوں کے لئے اس سے متعلق مزید معلومات محکمہ ٹرانسپورٹ،جی این سی ڈی ٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس مسودے پر عوام سے رائے بھی طلب کی ہے۔ دہلی کے باشندے اگلے 30 دنوں کے اندر، یعنی 11 مئی 2026 تک evpolicy2026@gmail.com یا جوائنٹ کمشنر (ای وی )، ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ، 5/9 انڈر ہل روڈ، دہلی 110054 کو خط بھیج کر اپنی رائے پیش کر سکتے ہیں۔ حکومت نے درخواست کی ہے کہ مشورہ دینے کے لئے آفس نہ آئیں ، صرف ای میل یا ڈاک کا ہی استعمال کریں۔
نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی دہلی میں پہلی بار اگست 2020 میں نافذ کی گئی تھی اور اس کی میعاد 2023 میں ختم ہوگئی تھی۔اسی پالیسی کو اب تک توسیع دی جاتی رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے سپریم کورٹ میں سونپی گئی اپنی تازہ ترین رپورٹ ”دہلی -این سی آر میں اے کیو آئی کے خراب ہونے کے عوام کی شناخت“ میں گاڑیوں سے ہونے والے کاربن اخراج کو سب سے بڑی وجہ بتائی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد