
بنگلورو، 10 اپریل (ہ س)۔ سینئر اسکالر، مصنف اور ناڈوج اور راشٹروتھان پریشد کے سابق صدر ایس آر راما سوامی (88) کا جمعہ کی صبح بنگلورو کے شنکر پورم میں رنگ راؤ روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر انتقال ہوگیا۔ ان کی موت کنڑ ادب اور صحافت کی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ان کا جسد خاکی آج دوپہر 12 بجے تک کیمپے گوڑ نگر میں راشٹر وتھان پریشد کے کیشوشلپ میں آخری دیدار کے لیے عوام کے لیے رکھا گیا ۔ اس کے بعد رودر بھومی پر ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپا، قائد حزب اختلاف آر اشوک اور بی جے پی کے ریاستی صدر وجےندر سمیت کئی معززین نے ڈاکٹر ایس آر راما سوامی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
پانچ دہائیوںپر محیط خدمات
ڈاکٹر راماسوامی نے پانچ دہائیوں تک صحافت اور ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ پچھلے 35 برسوں سے انہوں نے ماہانہ میگزین ”اتھان“ اور ”راشٹروتھان ساہتیہ“پبلشر کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1972 سے 1979 تک انہوں نے ہفتہ وار میگزین ”سدھا“ کے چیف سب ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
ادب میں خصوصی تعاون
انہوں نے بہت سی عظیم شخصیات کی سوانح عمری لکھی، جن میں سبھاش چندر بوس، جے پرکاش نارائن، ولبھ بھائی پٹیل اور موکش گنڈم وشویشورایا شامل ہیں۔ مجموعی طور پر انہوں نے تقریباً 55 کتابیں تصنیف کیں۔ ”بھارت میں سماجی کاریہ“،”سوتنتر ودے کے میل کے پتھر“، ”آرتھکتا کے دو دھرو“ اور ”شتابدی کے موڑ پر بھارت “جیسی تصانیف سماجی سائنس اور معاشیات کے شعبوں میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ان کی کتاب”شتابدی کے موڑ پر بھارت“کو کرناٹک ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے دھرم پال کے گرنتھوں کا کنڑ میں ترجمہ کیا، جس سے ہندوستانی فکر کو ایک نئی سمت ملی۔
نظریہ اور تحریر کی میراث
”دیوٹی گیگلو“،”سبھیتاوں کا سنگھرش“، ”کچھ ایتہاسک پرو“ اور ”دیپتی منت“ جیسی تصانیف کے ذریعے انہوں نے معاشرے، تاریخ اور ثقافت کے مختلف پہلوو¿ں کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے 1,000 سے زیادہ تحقیقی مضامین لکھ کر سماجی طور پر مبنی خیالات کو پھیلایا۔
اعزازات
انہیں صحافت اور ادب میں ان کی شراکت کے لئے متعدد اعزازات ملے ہیں، جن میں آریہ بھٹہ ایوارڈ، کرناٹک اسٹیٹ ایوارڈ، کرناٹک اوپن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری اور میتھک سوسائٹی کا صد سالہ ایوارڈ شامل ہیں۔ 2015 میں، کنڑ یونیورسٹی، ہمپی نے انہیں باوقار’ناڈوج“ کے خطاب سے نوازا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد