
کولکاتا، 10 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے درمیان، مرکزی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر امت شاہ نے جمعہ کو مغربی مدنا پور کے ڈیبرا میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس نے گھاٹال ماسٹر پلان کو ”جنجال“ میں بدل دیا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس پروجیکٹ کے لیے 1500 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ مرکزی حکومت 60 فیصد فنڈز فراہم کرنے کو تیار تھی، لیکن ریاستی حکومت نے اس منصوبے کو صحیح طریقے سے نافذ نہیں کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر بی جے پی ریاست میں حکومت بناتی ہے تو گھاٹل کے نکاسی آب کے مسئلہ کا ایک سال کے اندر مستقل حل نکال لیا جائے گا۔
ریلی کے دوران امت شاہ نے دراندازی کا مسئلہ بھی نمایاں طور پر اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں غیر مجاز دراندازی ہوئی ہے جس سے یہ پہچاننا مشکل ہو گیا ہے کہ کون ہندوستانی ہے اور کون نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر بی جے پی حکومت بناتی ہے تو سخت سرحدی حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے، تاکہ ’ایک پرندہ بھی دراندازی نہ کر سکے‘۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے شاہ نے الزام لگایا کہ ان کا مقصد اپنے بھتیجے کو وزیر اعلیٰ بنانا ہے، جب کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا مقصد ریاست کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ریلی میں بی جے پی کے وعدوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ اگر پارٹی حکومت بناتی ہے تو وہ بے روزگاروں اور دیگر مستفیدین کو ماہانہ 3,000 روپے کی مالی امداد فراہم کرے گی۔ انہوں نے خواتین کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس قائم کرنے اور ریاست میں بڑے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔امت شاہ نے حکمراں ترنمول کانگریس حکومت کے 15 سالہ دور کو ”ڈراو¿نا خواب“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ریاست میں ترقی، شفافیت اور سلامتی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan