
نئی دہلی، 10 اپریل (ہ س) سپریم کورٹ نے آج ان وکلاءسے کہا جنہوں نے مختلف معاملات پر 25 الگ الگ مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی ہیں کہ وہ عدالت میں آنے کے بجائے انتظامیہ اور حکومت سے رجوع کریں۔ یہ تمام معاملات چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے درج تھے۔
جیسے ہی ان مقدمات کی سماعت کے لیے بلایا گیا، درخواست گزار اور وکیل سچن گپتا نے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ سے کہا کہ وہ درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اپنے پیشے پر توجہ دیں، عدالت میں آنے کے بجائے حکومت اور انتظامیہ سے رجوع کریں۔ عدالت نے کہا کہ ہم آپ کی درخواست پر مناسب وقت پر ضرور سماعت کریں گے، اگر انتظامیہ نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی تو آپ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل ہونے کے ناطے درخواست گزار کو مسائل کی نشاندہی کرنی چاہیے اور انتظامیہ کو حساس بنانے کے لیے ان کا تجزیہ کرنا چاہیے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی