
کولکاتا، 10 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے پہلے ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسد الدین اویسی کی جماعت مجلس اتحاد المسلمین نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد توڑ دیا ہے اور ریاستی انتخابات اکیلے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعہ کی علی الصبح سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں، پارٹی نے کہا کہ وہ خود کو کسی ایسے تنازعہ یا بیان سے جوڑ نہیں سکتی جس سے مسلمقوم کی عزت نفس پر سوال اٹھے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد آج سے ختم کیا جاتا ہے۔
اس فیصلے کو ہمایوں کبیر کے مبینہ ’خفیہ ویڈیو‘ تنازع سے جوڑا جا رہا ہے۔ اگرچہ بیان میں کسی خاص واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم سیاسی حلقوں میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اسی تنازعہ کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھے۔
اتحاد ٹوٹنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہمایوں کبیر نے کہا کہ اویسی اپنا فیصلہ خود کرنے میں آزاد ہیں اور وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اویسی کا ذاتی احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں جماعتوں نے 25 مارچ کو کولکاتا میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک ساتھ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہمایوں کبیر نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پارٹی 182 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے اور مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان کی پارٹی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور عوامی حمایت حاصل کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ”خفیہ ویڈیو“ مصنوعی ذہانت (اے آئی)کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تھی اور اس کی صداقت ثابت نہ ہونے پر ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی دھمکی دی۔
اپنے بیان میں، مجلس اتحاد المسلمین نے یہ بھی کہا کہ مغربی بنگال میں مسلم قوم طویل عرصے سے غریب، نظر انداز اور استحصال کا شکار ہے اور ان کی پارٹی کا مقصد ان برادریوں کے لیے ایک آزاد سیاسی آواز فراہم کرنا ہے۔ اس لیے پارٹی نے ریاست میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیے بغیر تنہا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غور طلب ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد کا ابتدائی طور پر ریاست میں اقلیتی ووٹ شیئر پر خاصا اثر مانا جاتا تھا۔ تاہم اب اس اتحاد کے ٹوٹنے سے انتخابی مساوات میں تبدیلی متوقع ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد