

امرتسر، 10 اپریل (ہ س)۔ خالصہ ساجنا دیوس (ویساکھی) کے مبارک موقع پر پاکستان کے تاریخی گرودواروں کے درشن کے لیے ہندوستان بھر سے تقریباً 2840 سکھ عقیدت مند جمعہ کی صبح اٹاری-واہگہ سرحد کے راستے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔
شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی ) کی طرف سے تقریباً 1,763 عقیدتمندوں کا ایک خصوصی جتھاروانہ کیا گیا۔اس کے علاوہ، دہلی سکھ گرودوارہ پربندھک کمیٹی، ہریانہ کمیٹی اور دیگر ریاستوں کے عقیدت مند بھی اس جتھے میں شامل ہیں۔ کل 2,840 یاتری خالصہ ساجنا دیوس منانے اور گردواروں کی زیارت کے لیے پاکستان کا سفر کر رہے ہیں۔
اس جتھے کی قیادت ایس جی پی سی ممبر سرجیت سنگھ تگلوال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ عقیدت مند اپنے گرودواروں میں جانے میں گہری عقیدت اور یقین رکھتے ہیں۔ یہ جتھاپاکستان میں گرودوارہ ننکانہ صاحب، گرودوارہ شری پنجہ صاحب (حسن ابدال) اور دیگر تاریخی گرودواروں میں متھاٹیکے گا اور مرکزی اجتماع میں شرکت کے بعد 19 اپریل کو ہندوستان واپس آئے گا۔ عقیدت مندوں کو 10 دن کا ویزہ جاری کیا گیا ہے۔
ایس جی پی سی حکام نے بتایا کہ اس جتھے کے لیے 1,795 پاسپورٹ پاکستانی سفارت خانے کو بھیجے گئے تھے اور ان میں سے 1,763 کو ویزے جاری کیے گئے، جب کہ 32 عقیدت مندوں کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔جن عقیدت مندوں کو ویزا نہیںمل سکا ہے،ان میں مایوسی نظر آئی۔
عقیدت مندوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویزے دیں تاکہ ہر کوئی اپنے گرودھاموں پر حاضری دے سکے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کرتار پور کوریڈور کو مزید قابل رسائی بنایا جائے اور پاکستانی حکومت کی طرف سے عائد 20 ڈالر کی فیس معاف کی جائے۔
اس موقع پر ایس جی پی سی کے سکریٹری کلونت سنگھ منن نے بتایا کہ یہ یاترا 14 اپریل کو خالصہ ساجنا دیوس کی یاد میں منعقد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ 10 روزہ مذہبی سفر ہے، جس میں عقیدت مند پاکستان کے مختلف گرودواروں میں متھا ٹیکیں گے اور خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ واپس آئیں گے۔
وہیں، جتھے کے رہنما، سرجیت سنگھ تگلوال نے کہا کہ گرو نانک دیو جی کی مقدس سرزمین ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب پرمتھا ٹیکنا ہر سکھ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرو نانک دیو جی نے انسانیت، اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیا اور لنگر کی روایت شروع کرکے سماج کو مساوات کا راستہ دکھایا۔
اس سال کے جتھے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تقریباً 200 اکیلی خواتین کو ویزے جاری کیے گئے ہیں، جو خاندان کے کسی فرد کے بغیر اس یاترا پر جا رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایس جی پی سی نے پہلے کہا تھا کہ اکیلی خواتین کو جتھا کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہوگی، لیکن اس بار خواتین کی ایک بڑی تعداد کو اجازت دی گئی ہے۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ سال اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا تھا جب سربجیت کور نامی خاتون، جو اس جتھے کے ساتھ پاکستان گئی تھیں، یاترا کے بعد واپس ہندوستان نہیں آئیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے پاکستان میں رہ کر ایک پاکستانی شہری سے شادی کر لی۔ اس واقعے کے بعد سیکورٹی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس سال کے جتھے کے حوالے سے ہائی الرٹ ہیں اور عقیدت مندوں پرسخت نظر رکھی جارہی ہے۔
اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ایس جی پی سی نے اس سال خاص طور پر تنہا خواتین عقیدت مندوں کے لیے ایک سخت کثیر سطحی تصدیقی عمل کو لاگو کیا ہے ۔ اس عمل کے تحت، ہر خاتون عقیدت مندوں کو ایک تحریری ضمانت فراہم کرنا ہوگی جس میں اس بات کی تصدیق کی جائے کہ وہ صرف مذہبی مقاصد کے لیے سفر کررہی ہیں۔ اس معاہدے کو خاندان کے سربراہ، متعلقہ ایس جی پی سی ممبر، گاو¿ں کے سرپنچ اور نمبردار سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے۔
حکام کے مطابق، ان سخت دفعات کا مقصد یاترا میں شفافیت، احتساب اور مذہبی اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ مستقبل میں کوئی متنازعہ صورتحال پیدا نہ ہو۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد