
علی گڑھ، 07 مارچ (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات، مراکز اور دفاتر نے اجتماعی طور سے ’سیوا سنکلپ قرارداد‘ پڑھ کر عوامی خدمت، ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اور قوم کی تعمیر کے اُن اعلیٰ نظریات سے اپنی اجتماعی وابستگی کا اعادہ کیا جو حکومت ہند کی جانب سے نئے وزیر اعظم دفتر ’سیوا تیرتھ‘ میں منعقد ہونے والی مرکزی کابینہ کی پہلی میٹنگ کے موقع پر جاری کردہ سرکلر میں بیان کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب میں رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے مذکورہ قرارداد کے نکات پر گفتگو کی، جس کے بعد اسے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، مراکز اور دفاتر میں پڑھ کر اجتماعی طور سے اپنانے کا عہد کیا گیا۔
اساتذہ، افسران اور عملہ کے اراکین نے اپنے اپنے شعبوں اور دفاتر میں اس قرارداد کو اجتماعی طور سے پڑھا جس میں ایسی دفتری اور عملی ثقافت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے جو خدمت، لگن اور شہریوں کے تئیں جواب دہی کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہو۔ قرارداد میں ’ناگرک دیوو بھَوا‘کے جذبے کو اجاگر کیا گیا اور اس بات کی توثیق کی گئی کہ حکمرانی اور عوامی اداروں کو ہر شہری کے وقار، مساوات اور فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
حاضرین نے ’وکست بھارت ایٹ 2047‘ کے وسیع تر قومی وژن پر بھی غور کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی خدمات کے ذریعے ایک ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی جانب پیش رفت میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ قرارداد میں شفاف، شہریوں پر مرکوز اور ٹکنالوجی سے اعانت یافتہ حکمرانی پر زور دیا گیا، جس کا مقصد عوام کی زندگی کو آسان بنانا اور اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا ہے۔
یونیورسٹی کے ذمہ داران نے کہا کہ اس قرارداد کو اختیار کرنا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ خدمت، شمولیت اور قوم کی تعمیر کی اقدار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ایسی دفتری اور تعلیمی ثقافت کو پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہے جو علمی امتیاز کو سماجی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ