
نئی دہلی، 7 مارچ (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 10 سال پرانے قتل کے معاملے میں مفرور ملزم کو دہلی سے گرفتار کیا ہے۔ ملزم 2016 میں جموں کے گاندھی نگر علاقے میں اپنی ہی 10 سالہ بیٹی کو قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا اور وہ بھیس بدل کر دہلی میں رہ رہا تھا۔
کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ہرش اندورا نے ہفتہ کو بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت مدھیہ پردیش کے چھتر پور کے رہنے والے رمیش کمار کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ جموں کے گاندھی نگر پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 176/2016 میں ایک قتل کیس (دفعہ 302 آئی پی سی) میں مطلوب تھا۔ واقعہ کے بعد تقریباً ایک دہائی تک یہ معاملہ حل نہیں ہوا کیونکہ ملزم مسلسل پولیس سے بھاگتا رہا اور اپنی شناخت تبدیل کرتا رہا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، 2016 میں رمیش کمار جموں میں مزدور کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اسی دوران اسے شک ہوا کہ اس کی 10 سالہ بیٹی اس کی اولاد نہیں ہے۔ اس شک کی وجہ سے اس نے اس کے سر پرڈنڈے سے سے حملہ کردیا۔ شدید زخمی لڑکی کو علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گئی۔ واقعہ کے بعد ملزم جموں سے فرار ہو گیا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ دہلی آیا اور اپنا نام بدل کر راجویر رکھ لیا۔ وہ سنجے کالونی، بھاٹی مائنز، جنوبی دہلی میں رہتا تھا اور اسی نام سے اپنی پہچان چھپا کر کئی برسوں تک پولیس سے بچتا رہا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ کرائم برانچ کی ڈبلیو آر-2 یونٹ ٹیم بین ریاستی مجرموں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔ دریں اثنائ، اس معاملے میں ملزم کی تلاش کے سلسلے میں جموں پولیس کی طرف سے معلومات اور درخواست موصول ہوئی۔ اس کے بعد کرائم برانچ نے ملزم کی تلاش شروع کی۔ تفتیش کے دوران ہیڈ کانسٹیبل مینک کو اطلاع ملی کہ ملزم بھاٹی مائنز علاقہ میں رہ رہا ہے۔ پولیس ٹیم نے کئی دنوں تک مشتبہ علاقے میں تکنیکی تجزیہ اور دستی نگرانی کی۔ مسلسل کوششوں اور زمینی تفتیش کے بعد ٹیم نے ملزم کو بھاٹی مائنز کے علاقے میں ڈھونڈ کر گرفتار کر لیا۔
ملزم کی گرفتاری کے بعد جموں پولیس کو فوری طور پر اطلاع دی گئی۔ اس کے بعد جموں پولیس کے تفتیشی افسران دہلی پہنچے اور اس کیس کے ملزم کو باضابطہ طور پر گرفتار کر کے لے گئے۔ کرائم برانچ کے حکام نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری سے قتل کا 10 سال پرانا معاملہ حل ہو گیا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد