
- روایت، ثقافت اور بھائی چارے کی مثال
لکھنؤ، 04 مارچ (ہ س)۔ پھاگن کی پورنیماکے ساتھ ہی پورا اتر پردیش رنگوں، گلال، لوک گیتوں اور ثقافتی جوش و خروش میں رنگ گیا۔ گاو¿ں کے چوکوں سے لے کر میٹروپولیٹن شہروں کی سڑکوں تک، ہولی صرف رنگوں کا تہوار نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، مذہبی عقیدے اور ثقافتی ورثے کا ایک متحرک جشن بن کر سامنے آیا۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں مختلف روایات اور لوک ثقافتوں کے ساتھ منائی جانے والی ہولی نے ایک بار پھر گنگا -جمنی ثقافت کی مثال پیش کی۔ برج کی عقیدت، کاشی کی مستی، اودھ کی تہذیب اور پوروانچل کی لوک دھنوں نے پوری ریاست کو رنگوں کے ایسے دھاگے میں باندھا، جہاں تنوع سب سے بڑی پہچان بن کر ابھرا۔
برج علاقے میں ہولی کی مشہور روایت
اتر پردیش میں ہولی کا ذکر برج خطے کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان اور بیرون ملک سے ہزاروں عقیدت مند لٹھمار ہولی، پھولوں کی ہولی اور رنگوتسو کا مشاہدہ کرنے کے لیے متھرا، ورنداون، برسانا اور نندگاو¿ں پہنچے۔ برساناکی لٹھمار ہولی میں خواتین نے روایتی انداز میں مردوں پر لاٹھیاں برسائیں۔ جبکہ نندگاؤں میں ہوریاروں نے گلال نچھاور کر کے ماحول کو رنگین بنا دیا۔ مندروں میں رادھا- کرشن کی عقیدت کے ساتھ رنگوں اور موسیقی کا شاندار سنگم دیکھا گیا۔
کاشی میں بھنگ، موسیقی اور روحانیت کارنگ
وارانسی میں ہولی اپنیمستی کے لیے مشہور رہی ہے ۔ اس موقع پر غیر ملکی سیاح بھی گھاٹوں پر رنگوں میں بھیگتے نظر آئے۔ بابا وشوناتھ کے شہر میں صبح سویرے ہی ڈھول -نگاڑوں، پھاگ گیتوں اور روایتی بھنگ کے ساتھ تہوار کے جوش کا ماحول رہا۔ ”ہر ہر مہادیو“ کے نعروں کے درمیان گنگا کے کنارے دیر شام تک رنگوں کا تہوار جاری رہا۔
ہولی بھگوان شری رام کی نگری اجودھیامیں عقیدت اور خوشی کے رنگوں سی سجی ہولی
ایودھیا میں ہولی کا جشن بھگوان شری رام کے وقار اور لوک عقیدے سے منسلک نظر آیا۔ رام نگری کی گلیوں میں رنگوں اور گلالوں کے ساتھ عقیدت، اپنے پن اور سماجی ہم آہنگی کا ایک انوکھا ماحول دیکھنے کو ملا۔ صبح سے ہی لوگوں نے عبیر گلال اور جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ جشن کا آغاز کیا۔ خاندانوں اور نوجوانوںکی ٹولیاں روایتی گانوں اور جوش و خروش کے ساتھ ہولی کا تہوار مناتی ہوئی نظر آئیں۔ مقامی محلوں میں منعقدہ ہولی کی تقریبات نے بھگوان شری رام کے پیار، وقار اور بھائی چارے کے نظریات کو مجسم کرنے کا پیغام دیا۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک، سب نے غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ جشن کا پیغام یہی تھا کہ رام کی نگری میں ہولی صرف رنگوں کا تہوار نہیں ہے، بلکہ باہمی محبت اور سماجی اتحاد کا جشن ہے۔ بھگوان شری رام کی سرزمین پر، رنگ وقار کے ساتھ کھلتے ہیں اور تہوار اقدار کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔
اودھ خطے میں ثقافتی اور سماجی ہولی
راجدھانی لکھنؤ سمیت پورے اودھ علاقے میں ایکپرسکون اور ثقافتی ہولی منائی گئی۔ محلوں میں اجتمای ہولی ملن پروگرام منعقد ہوئے، جہاں ہندو اور مسلمان بھائیوں نے ایک دوسرے کو گلال لگا کر بھائی چارے کا پیغام دیا۔ سرکاری اداروں، سماجی تنظیموں اور ثقافتی فورم پر مشاعرون و کوی سمیلن، پھاگ گیتوں اور لوک رقص کی پیشکش نے جشن کو خاص بنا دیا۔
پوروانچل میں لوک گیتوں اور پھاگ کی بازگشت
پوروانچل اضلاع مرزا پور، گورکھپور، اعظم گڑھ اور بلیا میں رات بھر روایتی پھاگ گانے گائے گئے۔ گاو¿ں کے چوکوں میں رات بھر ڈھولکوں اور جھانجھوں کی تھاپ پر ہولی کے گیت گائے گئے ۔ دیہی علاقوں میں قدرتی رنگوں اور اجتماعی دعوتوں کی روایت زندہ رہی۔
بندیل کھنڈ کی پانچ روزہ ہولی
جھانسی، ہمیر پور اور باندہ میں، ہولی کئی دن تک چلنے والا تہوار ہے۔ یہاں، خواتین کی خاص ہولی کی تقریبات، لوک رقص اور روایتی رسومات اس تہوار کو اپنی الگ پہچان دیتی ہیں۔
سیکورٹی اور انتظامی انتظامات
ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ نے حساس علاقوں میں پولیس فورس تعینات کرکے امن و امان برقرار رکھا۔ ڈرون نگرانی اور کنٹرول روم نے بڑے شہروں میں صورتحال کی نگرانی کی، جس کے نتیجے میں زیادہ تر مقامات پر ہولی کا پرامن جشن منایا گیا۔
ہولی نے سماجی پیغام بھی دیا
اس سال، کئی اضلاع میں بغیر کیمیکل والے رنگ، پانی کی بچت اور ہم آہنگی والی ہولی جیسی مہم کو فروغ دیا گیا۔ نوجوانوں اور سماجی تنظیموں نے ماحول دوست ہولی منانے کی اپیل کی۔
ہندوستھا ن سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد