علی گڑھ دو دو سال سے بغیر پرمٹ چل رہی اسکولی بسیں
علی گڑھ, 4 مارچ (ہ س)۔ علی گڑھ میں اسکولی بسوں میں طلباء کی حفاظت کو لے کر حکومت کا رخ سخت ہے، مقامی سطح پر اسکولی بسوں کی فٹنس کے حوالے سے افسران ڈھیلے رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ دادوں کے قریب اسکولی بس میں فرش سے نیچے گر کر ایک بچی کی موت نے محکمہ
علی گڑھ دو دو سال سے بغیر پرمٹ چل رہی اسکولی بسیں


علی گڑھ, 4 مارچ (ہ س)۔

علی گڑھ میں اسکولی بسوں میں طلباء کی حفاظت کو لے کر حکومت کا رخ سخت ہے، مقامی سطح پر اسکولی بسوں کی فٹنس کے حوالے سے افسران ڈھیلے رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ دادوں کے قریب اسکولی بس میں فرش سے نیچے گر کر ایک بچی کی موت نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران کی کارکردگی کی تلخ حقیقت بیان کر دی ہے ۔ جس بس سے گر کر یو کے جی کی بچی کی موت ہوئی، اسکا پرمٹ دو سال پہلے ختم ہو چکا تھا،بیمہ بھی نہیں تھا۔ 11ماہ پہلے پرانی بس کو فٹنس دی گئی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ ضلع میں تقریباً 6 اسکولی بسیں بغیر فٹنس کے سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔طلباء کو گھر سے اسکول لانے اور واپس چھوڑنے کے لیے گاڑی مالکان کو موٹر ایکٹ کی دفعہ 53 کے تحت محکمہ ٹرانسپورٹ میں رجسٹرڈ کرانا لازمی ہے۔ اس رجسٹریشن کے لیے گاڑی کافٹنس، پرمٹ اور ضروری ضوابط کی پابندی ضروری ہوتی ہے، اسکے بعد ہی بسوں کا رجسٹریشن ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اسکول گاڑی کے آپریٹر، اسکول کے منتظم اور پرنسپل کے بیچ معاہدہ ہونا بھی لازمی ہے۔ یہ معاہدہ ڈویژنل ٹرانسپورٹ محکمہ میں جمع کرایا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں گاڑی کی تفصیلات، فٹنس، ڈرائیور کا لائسنس وغیرہ لازمی شامل ہوتا ہے،مگر کچھ گاڑی مالکان معاہدہ جمع نہیں کراتے۔ڈویژنل ٹرانسپورٹ محکمہ ڈ کے افسران کے ساتھ، گاڑیوں کی جوابدہی نجی اسکولوں کے منتظمین اور پرنسپل پر بھی ہوتی ہے ۔ لیکن افسران اور اسکول انتظامیہ کی لاپروائی سےکئی غیر فٹ گاڑیاں اسکولوں سے منسلک ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande